قانون کی حکمرانی ہو تو کوئی پاکستانی بیرون ملک رہنے کو تیار نہیں ہوگا: ندیم افضل چن

ٹورنٹو (اشرف خان لودھی سے) پاکستان پیپلز پارٹی کینیڈا کے صدر چوہدری جاوید گجر کی جانب سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی 38ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب منعقد کی گئی جس میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں، کارکنوں اور پاکستانی کمیونٹی کی شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کینیڈا کے صدر چوہدری جاوید گجر نے تقریب میں شریک مہمانوں کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ مرکزی اطلاعات سیکرٹری ندیم افضل چن، اشفاق ، جی ایم بھٹو، سابق رکن قومی اسمبلی حسنین بھائی، ملک لیاقت، عبدل، کلاچی ، سابق صدر منصور مرزا، انجم بھٹی، ناصر حسین اور ناصر شاہ سمیت دیگر شخصیات تقریب میں موجود ہیں۔

چوہدری جاوید گجر نے علی ڈوگر، جنگ کینیڈا سے اشرف خان لودھی، امتیاز، سجاد، میاں ذوہیب، شہزادہ بینظیر چوہدری احسن، وقاص گوندل، عرفان ملک، سنی، میاں لطیف، جنید اور پیپلزپارٹی ٹورنٹو کے جنرل سیکرٹری حیدر علی سمیت دیگر شرکاء کا بھی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 40 برس سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں اور ان شاء اللہ زندگی بھر پارٹی کے ساتھ رہیں گے۔ پیپلز پارٹی کے کارکن کی حیثیت سے ان کی ایک روایت اور وابستگی ہے جس کے تحت وہ اپنا سیاسی کردار ادا کررہے ہیں۔چوہدری جاوید گجر نے کہا کہ آج چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ ہے اور اس موقع پر کیک بھی کاٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ انہیں پاکستان میں اس وقت کوئی دوسرا نوجوان رہنما نظر نہیں آتا اور ان کے خیال میں آنے والا کل بلاول بھٹو زرداری کا ہوگا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نےاپنے خطاب میں چوہدری جاوید گجر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس تقریب کے ذریعے تمام دوستوں سے ملاقات کا موقع فراہم کیا، کینیڈا میں لوگوں کی مصروفیات بہت زیادہ ہیں اور سیاسی تقریبات کیلئے وقت نکال کر جمع ہونا بڑی بات ہے۔ندیم افضل چن نے کہا کہ آج چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کا دن ہے، اللہ تعالیٰ انہیں لمبی زندگی دے، وہ ملک کی خدمت کریں اور پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس طبقے کیلئے بنی تھی جس میں مزدور، کسان اور پسے ہوئے لوگ شامل ہیں اور آج بھی پاکستان کی اکثریتی آبادی اسی طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ندیم افضل چن نے کہا کہ سیاسی جماعت کی ضرورت ہر طبقے کو ہوتی ہے، خواہ کوئی سرکاری ملازم ہو، میڈیا سے وابستہ ہو، کاروباری طبقے سے تعلق رکھتا ہو یا کسان ہو۔ سیاسی جماعتوں کو عوام کی نمائندگی، عوام کی بات اور انہیں ایک وژن دینا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعت یا اس کے قائد کا ایک تعلیمی کردار بھی ہوتا ہے۔ کامیاب لیڈر وہ ہوتا ہے جو قوم کو تعلیم دے، کیونکہ لیڈر قوم کیلئے نمونہ ہوتے ہیں۔

ندیم افضل چن نے پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بیگم نصرت بھٹو تک پارٹی نے مشکل وقت دیکھا۔ آج کینیڈا میں کھڑے ہوکر بھی وہ یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اب لوگوں کو معلوم ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو کیوں شہید کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایک المیہ یہ ہے کہ جب کوئی ایسی مضبوط قیادت ابھرتی ہے جو پورے ملک اور تمام صوبوں کی نمائندگی کرتی ہے اور دنیا میں اس کا ذکر ہوتا ہے تو اسے کمزور کرنے کی کوششیں شروع ہوجاتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی کام مشکل ہے، اس کیلئے جدوجہد کرنا پڑتی ہے، جبکہ مختصر راستے سے اقتدار حاصل کرنا اتنا مشکل نہیں۔ موقع پرست لوگ ہر حال میں اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں، لیکن کردار اور وژن کے ساتھ سیاست کرنا ایک مشکل سفر ہے، خواہ کینیڈا میں سیاست کی جائے یا پاکستان میں۔

ندیم افضل چن نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اندر بحث اور جمہوریت کمزور ہے۔ ملک کی 52 سے 53 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اگر معاشرے میں عوام اور قیادت، سیاست اور عوام یا کارکن اور لیڈر کے درمیان فاصلہ ختم کرنا ہو تو ایسا نوجوان رہنما درکار ہے جو علم رکھتا ہو اور دنیا کے ساتھ بات کرسکتا ہو۔انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اس وقت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بہتر کوئی شخص نہیں جو یہ کردار ادا کرسکے۔ندیم افضل چن نے کہا کہ ہر جماعت کا لیڈر قابل احترام ہوتا ہے اور کارکن اس سے بھی بڑھ کر قابل احترام ہے۔ کارکن پارٹیوں کی جان اور سرمایہ ہوتے ہیں، کیونکہ وہ خود بھی ایک سیاسی کارکن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا نظریہ یہ ہے کہ گالی کا جواب بھی محبت، نظریے اور دلیل سے دیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کی پالیسی ہو، سرکاری ملازمت کا معاملہ ہو، نجکاری کی بات ہو، دنیا کے ساتھ کاروبار کا معاملہ ہو، قومی سلامتی ہو، وفاق کو مضبوط کرنے کی بات ہو، نوجوانوں کے سیاست سے وابستہ ہونے کا معاملہ ہو یا ریاست کو مضبوط کرنے کی بات ہو، پیپلز پارٹی کے کارکن سے لے کر قیادت تک اس حوالے سے ایک واضح بیانیہ رکھتی ہے۔

ندیم افضل چن نے کہا کہ آج نوجوان نسل سے مختصر راستے کے بیانیے کے بارے میں پوچھا جائے تو اکثر بحث اس حد تک محدود ہوجاتی ہے کہ فلاں رہنما کرپٹ ہے اور فلاں ایماندار ہے، جبکہ سیاست گالم گلوچ سے شروع ہوجاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جس بحث کو کونسلر یا میئر کو کرنا چاہیے، وہ ہمارے وزرائے اعلیٰ یا وزیراعظم کررہے ہوتے ہیں۔ندیم افضل چن نے نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی بحث کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے آج تک اپنے آئین پر مکمل عمل نہیں کیا، وزیراعظم کو مکمل اختیارات نہیں دئیے اور مقامی حکومت کے نظام کو مضبوط نہیں کیا، اسلئے پہلے ان بنیادی معاملات کو مضبوط کرنا چاہیے، اس کے بعد اگر ضرورت محسوس ہو تو صوبوں اور انتظامی یونٹس کے بارے میں بھی بات کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا انتظامی یونٹ اضلاع اور تحصیلیں ہیں اور مضبوط ضلعی حکومتیں، ضلعی میئر اور ضلعی ناظم کا نظام مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق شہید بینظیر بھٹو نے ایک ایسا ماڈل متعارف کرانے اور اس پر بحث شروع کرنے کی کوشش کی تھی جو اسکینڈینیوین اور ہالینڈ کے نظام سے متاثر تھا، بعدازاں پرویز مشرف کے دور میں مقامی حکومت کا نظام لایا گیا۔

ندیم افضل چن نے کہا کہ پرویز مشرف آمر تھا، تاہم مقامی حکومتوں کے نظام میں جس کی جو خدمات ہیں، انہیں تسلیم کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے اچھا مقامی حکومت کا نظام مشرف دور میں آیا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو آگے لے جانے کیلئے سب سے بنیادی ضرورت مقامی حکومت کے نظام، قانون کی حکمرانی، وفاق کو مضبوط کرنے، صوبائی خودمختاری اور ایک مؤثر عدلیہ کی ہے۔ نظام انصاف کو اس انداز میں بہتر کرنے کی ضرورت ہے کہ عام آدمی کو اپنے گھر میں بیٹھے بھی انصاف اور تحفظ مل سکے۔

ندیم افضل چن نے کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں محنت کش طبقہ زیادہ ہے جبکہ سرمایہ دار بہت کم ہیں، ہر شخص محنت اور جدوجہد کرکے اپنا گزارا کررہا ہے۔ ہر پاکستانی کا دل پاکستان کے لیے دھڑکتا ہے، لیکن اسے اپنے بچوں اور سرمائے کا تحفظ بھی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں قانون کی حکمرانی قائم ہوجائے تو بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستان واپس جانے کو ترجیح دیں گے۔

ندیم افضل چن نے کہا کہ دیار غیر میں رہنے والے پاکستانی اپنے محلے، گلی، صوبے، ملک اور رشتہ داروں سے دور رہ کر بڑی قربانی دیتے ہیں۔ کینیڈا اور دیگر ممالک میں مقیم پاکستانی پاکستان کے سفیر بھی ہیں اور پاکستان کا سرمایہ بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی وجہ سے پاکستان کو ملنے والی ترسیلات زر 53 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں اور اس میں سب سے بڑا حصہ اوورسیز پاکستانیوں کا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے اجرا اور دنیا کے دروازے کھولنے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی نے رکھی تھی۔

انہوں نے یورپی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے ساتھ روابط اور مکالمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ایسی قیادت کی ضرورت ہے جس کا ذکر کینیڈا سمیت دنیا کے کسی بھی ملک میں مقیم پاکستانی فخر سے کرسکے۔ندیم افضل چن نے کہا کہ وہ قیادت بلاول بھٹو زرداری کی صورت میں موجود ہے، تاہم وہ دیگر سیاسی رہنماؤں کا بھی احترام کرتے ہیں اور سیاست میں نظریاتی اختلاف ہر شخص کا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا کوئی کارکن اس بات کے حق میں نہیں کہ کسی پر تشدد کیا جائے یا کسی کے خلاف طاقت استعمال کی جائے۔ اگر پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے مشکلات، تشدد اور طویل جدوجہد کا سامنا کیا ہے تو پارٹی یہ نہیں چاہتی کہ جو کچھ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوا وہ آج کسی دوسری جماعت کے ساتھ ہو۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوری اور آئینی لوگ ہیں اور اگر آج بھی کسی سیاسی جماعت، اقلیت یا کسی طبقے کے ساتھ قومیت، لسانیت یا مذہب کی بنیاد پر زیادتی ہوتی ہے تو پیپلز پارٹی ہر صورت اس کی مذمت کرتی ہے۔

ندیم افضل چن نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی عہد کرتی ہے کہ وہ آئینی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی اور اس جمہوری جدوجہد میں کسی بھی سیاسی جماعت یا طبقے سے تعلق رکھنے والے کارکن کیلئے ساتھ کھڑی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی صرف ایک جماعت کی نمائندگی نہیں کرتی بلکہ پوری دنیا میں ایک نظریے، ایک سوچ اور پسے ہوئے طبقے کی نمائندگی کرتی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صحافی اشفاق نے کہا کہ ان کی پہلی مرتبہ کینیڈا آمد ہوئی ہے، وہ کاوش ٹیلی ویژن نیٹ ورک سے وابستہ ہیں اور گزشتہ 25 برس سے مختلف ٹیلی ویژن چینلز پر پروگرام کرتے رہے ہیں جبکہ چینل فائیو نیوز پر بھی پرائم ٹائم پروگرام کرتے ہیں۔اشفاق نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی 38ویں سالگرہ خوشی کا موقع ہے۔ ان کا تعلق لاڑکانہ سے ہے اور انہوں نےالمرتضیٰ ہاؤس کے قریب آنکھ کھولی، بعدازاں بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی ورثے کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والا شخص ہو یا صحافی، اسے کہیں نہ کہیں شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پڑھنا اور سمجھنا پڑتا ہے۔ بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر ہونے پر سیاسی مخالفین بھی گفتگو میں تحمل کا مظاہرہ کرتے اور الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کرتے ہیں۔

اشفاق نے کہا کہ بحیثیت صحافی ان کے خیال میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو پاکستان کی آنے والی نسل اور جمہوریت کیلئے مشعل راہ ہیں اور ایک ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری میں بھی ان کے نانا کے خون اور سیاسی ورثے کی جھلک نظر آتی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور مشکل حالات میں عالمی سطح پر، خصوصاً اقوام متحدہ میں پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کے انداز میں انہیں ذوالفقار علی بھٹو کی جھلک نظر آئی۔اشفاق نے کہا کہ صحافی عموماً تنقید کرتے ہیں اور تنقید اصلاح کیلئے ہونی چاہیے، تاہم بعض مواقع پر ایسی چیزیں بھی سامنے آتی ہیں جن کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں بلاول بھٹو زرداری جیسے نوجوان رہنما اور ان کی قیادت پاکستان کیلئے اہم ہے اور پاکستان کو مشکل حالات سے نکالنے کیلئے نوجوان قیادت کی ضرورت ہے۔