قانون ہو تو ایسا!

زندگی میں انسان کو اچھی بری خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں، لیکن معاشرے اور عوام کی بہتری کیلئے کی جانے والی کسی کاوش کی خبر ہمسایہ بلکہ ازلی دشمن ہمسایہ ملک سے ملے تو تکلیف کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے۔ خواہش ہوتی ہے کہ کاش ایسا اچھا کام ہمارے ملک میں بھی ہوتا لیکن اچھا کام تو دشمن ملک میں ہوا ہوتا ہے۔ لہٰذا ”بہت تکلیف دیتا“ ہے کہ ہم ایسا کیوں نہیں کر سکے۔ ہم میں کیا کمی ہے کہ وہ جو ہمارے دشمن ہیں۔ جنہیں ہم خود بحیثیت مسلمان اپنے سے کمتر اور موت کے بعد ”جہنم کا باسی“ سمجھتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ وہ ہم سے بہتر اور اچھے فیصلے ”اس دنیا“ میں کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک فیصلہ گزشتہ ہفتے بھارت کی سب سے بڑی ریاست مہاراشٹر میں کیا گیا۔ جہاں کھلی مرچ، مصالحہ جات اور مکسڈ مصالوں کی فروخت پر پابندی لگا دی گئی۔ مہاراشٹر حکومت کے شعبہ ڈرگ اینڈ فوڈ ایڈمنسٹریشن کے فوڈ سیفٹی کمشنر نے احکامات جاری کیے ہیں کہ مرچ، ہلدی، دھنیا، زیرہ، کالی مرچ، دارچینی، لونگ، ہینگ، الائچی، زعفران، گرم مصالحے اور تمام مکسڈ مصالحے (مصالحہ پاؤڈر) کھلے اور پیکنگ کے بغیر فروخت نہیں ہوں گے۔ تمام مصالحہ جات کی فروخت اب صرف پیکنگ شکل میں ہو گی۔ پیکنگ پر واضح الفاظ میں درج کیا جائے گا کہ اس میں کیا چیز کس حالت میں ڈالی گئی ہے اور وہ کب تک کھانے کے قابل رہے گی۔

فوڈ سیفٹی کمشنر نے یہ احکامات سپلائی چین سے منسلک اداروں مینوفیکچرز، ہول سیلرز، ریٹیلرز، ای کامرس پلیٹ فارمز، کمرشل کچنز کیلئے جاری کیے ہیں، جس کے بعد تمام مصالحہ جات اور بلینڈڈ مصالحے مارکیٹ میں تقسیم یا فروخت کرنے سے پہلے مینوفیکچرنگ کی جگہ پر ”پیک اور سیل بند“ کی تاریخ، بہترین استعمال کس تاریخ تک یعنی ایکسپائری ڈیٹ سمیت تمام دیگر لازمی اعلانات ضروری قرار دیئے گئے ہیں۔خوراک سے وابستہ کاروباری حضرات کو ہدایت کی گئی ہے کہ ثبوت کے بغیر اپنی مصنوعات کے خالص، نامیاتی، قدرتی اجزاء پر مشتمل ہونے یا صحت سے متعلق فوائد کے بارے میں گمراہ کن دعوے نہیں کر یں گے۔

بھارت میں عوام کی فلاح اور بہتر صحت کیلئے کیے جانے والے اس اقدام کے بعد جب اپنے ملک کا حال دیکھتے ہیں تو شرم آتی ہے۔ بطور رپورٹر گزشتہ 38 سال میں جو دیکھا وہ بڑا ہی تکلیف دہ تھا۔ بلدیہ عظمیٰ لاہور کے شعبہ فوڈ کے سربراہ چوہدری منیر مرحوم سے انتہائی قریبی تعلق دوستی تھی، ان کے پاس بیٹھ کر جو کچھ دیکھا وہ بتاتے ہوئے بھی حیا آتی ہے۔ چودھری منیر مرحوم کے مختلف سکواڈ جو ملاوٹ شدہ اشیاء خوردونوش سامان پکڑ کے لاتے تھے اس میں مرچوں میں برادہ ملایا گیا ہوتا تھا۔ ہلدی میں خراب گلی سڑی ہلدی کو بھی پیس کر شامل کیا گیا ہوتا تھا۔ چائے کی پتی میں کیکر کی چھال کو ملا کر رنگ دیا جاتا تھا۔ ملاوٹ شدہ دودھ تیار کرنے کیلئے بیرون ملک سے جانوروں کے استعمال کیلئے آنے والے خشک دودھ کو انسانوں کے استعمال کے قابل بنایا جاتا، جس کیلئے اس درآمد شدہ دودھ میں کھاد اور کوکنگ آئل شامل کر کے اس کے اندر جھاگ تک پیدا کر لی جاتی۔ مردہ جانوروں کی ہڈیوں کو بڑے بڑے کڑاہوں میں اُبال کر ان سے تیل نکالا جاتا ہے اور پھر اس تیل کو کوکنگ آئل کے نام پر بازاروں میں لگائی گئی ریڑھی والوں کو فروخت کیا جاتا ہے جو اس ”تیل“ میں پکوڑے سموسے اور نہ جانے کیا کیا کچھ تل کر غریب عوام کو کھلاتے ہیں۔ چودھری منیر مرحوم کے دفتر میں ایک ایسا کیس سامنے آیا تھا جس کے حوالے سے اپنے عدالتی نظام پر کچھ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ شعبہ فوڈ کے سکواڈ نے 10من گلی سڑی مرچ پکڑی تھی۔ اس مرچ کو چھڑانے کیلئے اس کے مالک نے بہت زور لگایا سفارشیں ناکام ہونے کے بعد عدالت میں مقدمہ کیا اور 6 سال بعد جج صاحب نے فیصلہ سنایا کہ مرچ اس کے مالک کے حوالے کر دی جائے۔ وہ گلی سڑی مرچ جو بلدیہ کے گودام میں پڑی اس قابل بھی نہیں رہی تھی کہ اسے استعمال کیا جا سکتا۔ لہٰذا چوری منیر نے اس مرچ کو فوری طور پر دریا برد (یعنی دریائے راوی کے حوالے) کروا دیا۔ آج بھی سوچتا ہوں کہ وہ جج صاحب جنہوں نے یہ فیصلہ دیا کیا ان کے گھر میں ”پسی لال مرچ“ استعمال نہیں ہوتی تھی۔ کون سوچ سکتا تھا کہ گوشت میں بھی ملاوٹ ہو سکتی ہے لیکن بکرے اور گائے کے گوشت میں وزن بڑھانے کیلئے سرنجوں اور ڈرپ کے ذریعے پانی شامل کیا جاتا تاکہ گوشت کا وزن بڑھایا جائے۔

گوشت میں پانی شامل کرنے سے گوشت خراب ہونے کا تو پتہ نہیں لیکن اس سے کھانے کے ذائقے میں فرق ضرور آتا ہے، لیکن اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ ہمیں مردہ جانوروں کا گوشت بھی کھلایا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال کئی شہروں میں پولیس اور دوسرے محکموں نے مردہ جانوروں کا گوشت پکڑا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مردہ جانوروں کا 445 کلو گوشت قبضے میں لیا گیا۔ لودھراں میں 80 کلو گوشت قبضے میں لیا گیا۔ لاہور کی بکر منڈی سے ”گوشت بنانے کیلئے“ کیلئے لائے گئے مردہ جانور برآمد ہوئے۔ ملتان میں سرکاری سلاٹر ہاؤس سے چھ مرے ہوئے بکرے اور ایک بچھڑا قبضہ میں لیا گیا جن کو ”کاٹنے کی تیاری“ پوری ہو چکی تھی۔ کراچی کی بھینس کالونی میں تقریباً 20لاکھ گائے بھینسیں موجود ہیں وہاں کے ”باخبروں“ کا کہنا ہے کہ روزانہ جو بھی گائے بھینس مرتی ہے اس کا گوشت کاٹ کر چھوٹے ڈھابوں اور ہوٹلوں میں سپلائی کر دیا جاتا ہے۔ لاہور میں شیخوپورہ سے آنے والی ویگن سے راوی روڈ پر پولیس نے سات من گائے اور تین من مردہ بکروں کا گوشت برآمد کیا۔ باقی بات تو چھوڑیں ٹولنٹن مارکیٹ جو اشرافیہ اور امراء کی مارکیٹ سمجھی جاتی ہے وہاں سے بھی ڈیڑھ سو کلو مردہ مرغیوں کا گوشت برآمد ہوا۔

اب تو یہ بھی سنا ہے کہ مصنوعی انڈے میدان میں آگئے ہیں۔ پاکستان میں صرف کھانے پینے کی اشیاء نہیں بلکہ استعمال کی اشیاء میں بھی کھل کر ملاوٹ کی جاتی ہے۔ شاہ عالم مارکیٹ میں میک اپ کا ایسا سامان دستیاب ہے جو اصلی نظر آتا ہے مگر وہ دو نمبر ہے۔ یہاں تو ٹوتھ پیسٹ اور صابن تک میں پتہ نہیں کیا کیا ملا دیا جاتا ہے۔ ہم وہ قوم ہیں کہ جس کے نبیؐ نے کہا تھا ”من غش فلیش منی“ یعنی جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔ اب اس کے بعد تو کچھ کہنے کو باقی نہیں رہا۔ پتہ نہیں ہم مسلمان بھی رہے کہ نہیں رہے۔
یہاں بابا بلہے شاہ کا کہا یاد آ رہا ہے۔
بلہے شاہ اسیں مرنا ناہیں
گور پیا کوئی ہور۔۔۔