قومی اسمبلی میں ایوان آج بھی حزب اختلاف کے نعروں سے گونجتا رہا، شیر افضل مروت نے پارٹی سے نکالے جانے پر اپنی ہی پارٹی سے سوال پوچھا کہ مجھے کیوں نکالا؟
ذرائع کے مطابق اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو شیر افضل مروت اپوزیشن گیٹ کے بجائے حکومتی گیٹ سے ایوان میں داخل ہوئے جب کہ ان کی اسمبلی آمد پر حکومتی اراکین نے ڈیسک بجائے جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آپ لوگ انہیں مروا نہ دینا۔
اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران اسپیکر نے موبائل کمپنیوں کے ضم ہونے پر ضمنی سوال کرنے کا کہا تو شیر افضل مروت نے کہا کہ میرا سوال تو ابھی صرف اپنے لوگوں سے ہے کہ مجھے کیوں نکالا ہے؟
شیر افضل مروت کے مختصر نکتہ اعتراض پر حکومتی ارکان نے قہقہے لگائے لیکن پی ٹی آئی اراکین خاموش رہے، اس موقع پر حکومتی اراکین نے بھی شیر افضل مروت کا ساتھ دیتے ہوئے مروت کو کیوں نکالا ظالمو جواب دو، مروت کو حساب دو، کے نعرے لگائے ،حکومتی اراکین نے بیرسٹر گوہر کو دیکھ کر کہا کہ آپ بھی ہمارا ساتھ دیں۔
اسمبلی کی کارروائی کے دوران مسلم لیگ ن کے رکن حنیف عباسی نے ہلکے پھلکے انداز میں شیر افضل مروت سے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، پی ٹی آئی میں واپس بھجوائیں گے۔
اجلاس کے دوران بیرسٹر گوہر نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کا مطالبہ کیا لیکن انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جس پر پی ٹی آئی کے شاہد خٹک نے کورم کی نشاہدہی کردی، پینل آف چیئر بلال اظہر کیانی کی گنتی کی ہداہت پر کورم نامکمل نکلا جس پر اجلاس پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

