انسان مٹی کا پتلا ہے اس کی روح اور جسم کا رشتہ اللہ کے حکم ہی سے برقرار رہتا ہے، بندہ کتنا ہی جی لے ایک روز اسے حاضر ہونا پڑتا ہے۔ گزشتہ دوچار دنوں سے بار بار اسی تعلق کے حوالے سے غور کرتا ہوں اور صبح کے وقت سورہ رحمن اور سورہ یٰسین کی باترجمہ تلاوت سے بھی مستفید ہوتا ہوں۔ ہر روز یہ یقین اور پختہ ہوتا چلا جاتا ہے کہ آقا حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے امت کی شفاعت کیلئے دعا اور وعدہ تو کیا لیکن انسان کو تو اپنے اعمال کا خود بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بعض افرادجسمانی عوارض کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس میں زیادہ تعداد ایسے افراد کی بھی ہے جو زندگی بھر نیک عمل کرتے رہے۔ میرے چچا(مرحوم) چودھری علم دین (سالار ضلع مسلم لیگ نیشنل گارڈز فیصل آباد) تحریک پاکستان کے نمایاں کارکنوں میں سے تھے۔ میرے والد (چودھری احمد الدین مرحوم) اور ان کی جوڑی مشہور تھی۔ ہمارے گھرانوں میں خلوص کے تعلقات ایسے تھے کہ اگلی نسل تک بھی منتقل ہوئے۔ آفاقی اصول کے مطابق چچا کے بعد ان کے صاحبزادے نجیب، اللہ کے حضور حاضر ہو گئے تو چند ماہ قبل کزن فرزانہ کے شوہر ڈاکٹر فاروق کی رحلت ہوئی اور اب گزشتہ ماہ فرزانہ بھی چل بسیں یوں چچی کی اولاد نہ رہی وہ علالت اور تقاضہ عمر کے تحت بیٹے کے پاس فیصل آباد ہی میں تھیں کہ یہ گھر ان کے شوہر چھوڑ گئے تھے۔ یہ ذکر یوں آیا کہ نجیب کی وفات پر میں اپنے دوست منور مرزا کے ہمراہ جنازہ پر گیا تھا تو چچی سے بھی ملاقات ہوئی جو میرے جاتے ہی پکار اٹھیں میں نے کہا تھا کہ خادم کو اطلاع کرو، وہ ضرور آئیگا، مجھے مل کر گلے لگایا اور پیار دیا، میں ان کی حالت دیکھ کر دکھ سے بھر گیا کہ وہ بہت زیادہ کمزور ہو چکی تھیں، واپسی میں میرا ذہن ماضی میں الجھا رہا۔ میں طالب علم تھا اور چچا لسوڑی پیر رہتے تھے۔ والد کیساتھ شاید پہلی بار گیا اور سلام کیا تو دیکھتا ہی رہ گیا وہ اتنی سمارٹ اور خوبصورت تھیں کہ انسان دیکھتا ہی رہ جائے۔ وہ ٹیچر تھیں اور پھر ان کا تبادلہ گاؤں میں ہوا اور وہ اپنے گھر آ گئیں، یہاں ہماری آمد و رفت بچوں سمیت بھی ہوتی اور چچی جس انداز سے ہمارے صدقے واری جاتیں وہ آ ج بھی یادگار ہے۔ چچی سکول کے بعد گھر پر بچیوں کو مفت ٹیوشن اور قرآن مجید بھی پڑھاتی تھیں اور یہ سلسلہ ان کااس وقت تک جاری رہا جب تک ان میں دم تھا۔ پھر جب کمزوری نے آ لیا تھا تو یہ سلسلہ بھی بحال نہ رہ سکا۔
گزشتہ روزدل پر بوجھ تھا، سوچا، فیصل آباد کا چکر لگالوں۔ بس سے روانہ ہوا، جب گاؤں کا سٹاپ آیا تو اترتے اترتے رک گیا اس طرف رخ کیا اور دعا پڑھ لی۔ خیال ہوا کہ وہ ہستی تو ہے ہی نہیں جو ماتھا چوم کر سر پر پیار دیتیں اور ہزار دعاؤں کے سائے میں بٹھاتی تھی، اطلاع کے مطابق چچی کا بھی قریباً تین سال قبل انتقال ہو گیا اور ہمیں اطلاع نہ مل سکی وہ خود زندہ اور سخت بیمار تھیں اس کے باوجود نجیب کے انتقال پر شور مچاتی رہیں کہ خادم کو اطلاع دو، وہ ضرور آئے گا۔ یوں دل مسوس کر رہ گیا اور فیصل آباد جااترا۔ چوک گھنٹہ گھر گیا۔ ایک دو دوستوں سے ملاقات کی پرانی باتیں یاد کیں اور چاء پی کر واپس بس سٹینڈ کا راستہ لیا۔ رات کو گھر آ گیا، اب تک سوچ رہا ہوں، انسانی بے ثباتی کا تاثر زائل نہیں ہو رہا اور سوچ رہا ہوں کہ جو افراد سجدے کرتے ہیں اور پھر بھی ان کے دل نہ جانے کیوں سخت ہو جاتے ہیں کہ انسان کو انسان سمجھنا موقوف کر دیتے ہیں میں جب بھی اپنے اجداد کو یاد کرتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے کس طرح ہماری پرورش کی اور وہ کیسا دور تھا جب ہم چھوٹوں میں سے کوئی ایک کسی بڑے کے سامنے اونچا بول پڑتا تو سخت ڈانٹ پڑتی تھی وہ کیسا اچھا دور تھا جب بچے بچے آپس میں لڑتے تو ہر ایک کو اپنے اپنے والدین سے سزا ملتی تھی۔ بڑوں کے ادب کا یہ عالم تھا کہ ہمارے محلہ کے بزرگ بسا پہلوان آ جاتے تو ہم لوگ کھیل چھوڑ کر اِدھر اُدھرہوجاتے تھے اور یہ تو ہماری خوش نصیبی بھی تھی اور ہے کہ ہماری پیدائش اس محلہ میں ہوئی جس میں حضرت علامہ سید ابوالحسنات محمد احمد قادری (غازی کشمیر) کی رہائش تھی اور ان کی نصیحت سنتے جوان ہو گئے تھے۔
گزشتہ صبح سیر صبح کے بعد جب دوست پارک میں جمع ہوئے تو سب دین ہی کی باتیں کررہے تھے اور اس پر تاسف کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ اس جدید دور کے بچے جواب جین زی کہلاتے ہیں کسی کی مانتے نہیں کہ پارک میں ممانعت کے باوجود کرکٹ کھیل رہے اور ٹیپ بال بار بار ہم میں سے کسی کو آکر لگتی تھی۔ فیلڈ کرنے والا لڑکا کسی شرمندگی کا اظہار کئے بغیر بال مانگ کرلے جاتا اور جو پھر واپس آ لگتا۔
بات دوسری طرف چلی گئی، مصطفےٰ ٹاؤن کے ہر بلاک میں پارک ہے اور یہ مرکزی پارک ہے ان سب کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ پھولوں والے پودے غائب اور شجرکاری نہیں ہوئی جبکہ گھاس بھی جگہ جگہ سے ختم ہے۔ پارک میں دو نئے بنچ رکھ دیئے گئے تو پہلے سے ٹوٹے ہوئے بھی موجود ہیں یہ حالات پی ایچ اے کا منہ چڑا رہے ہیں اور کچھ ایسا ہی حال صفائی کا بھی ہے۔ سوچتا ہوں کہ وہ بھی کیا دور تھا جب سرکلر باغات میں سایہ دار درختوں کی بہتات تھی، پھولوں اور پھل والا حصہ دربار شاہ محمد غوث کے عقب میں الگ تھلگ تھا، اب نہ جانے کیا ہوگیا کہ ادب لحاظ تو اٹھ ہی گیا تھا، شرم بھی جاتی رہی اور ہم ڈھیٹ ہوگئے ہیں۔ اللہ ہم پر رحم فرمائے۔

