نئے صوبوں کی تجویز،چند گذارشات!

نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے بہت کچھ کہا گیا اور کہا جا رہا ہے۔اس تجویز کے حامیوں کی طرف سے نئے انتظامی یونٹ (اب نام بدل کر بات کی جاتی ہے) کے حق میں جو بھی دلائل دیئے گئے ان سب کا تعلق مقامی مسائل سے ہے اور ان مسائل کے حوالے سے ساتھ ساتھ بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانے اور ان کے لئے انتخابی عمل کا تسلسل بحال رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو حمایت اور مطالبہ نئے صوبوں کا کیا جا رہا ہے لیکن مسائل کا حل بلدیاتی نظام میں ڈھونڈا جا رہا ہے اس سے تو بہتر ہے کہ اس پوری بحث کو ایک نکتے پر مرکوز کر لیا جائے کہ بلدیاتی ادارے قانون کے مطابق مضبوط ہوں تاکہ نئے صوبوں کے قیام اور صوبوں کے تعلقات اور کام میں کوئی خلل نہ آئے اور ٹکراؤ نہ ہو۔

تھوڑا سا غور کر لیں اس وقت عوام کو جو مسائل درپیش ہیں ان میں بجلی اور گیس کے نرخ اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہے توانائی کا پورا کنٹرول اور تقسیم وفاق کی ذمہ داری ہے صوبوں کا اس سے تعلق نہیں تو کیا،نئے صوبوں کو یہ اختیار مل سکتا ہے کہ وہ توانائی کے شعبہ میں عوام کو ریلیف فراہم کر سکیں۔اگر یہ ممکن نہیں تو پھر بہتر عمل تو بلدیاتی اداروں کی مضبوطی اور ان کے قانونی اختیارات کی بحالی اور ان میں عدم داخلت ہے اس لئے اس پر زور دینا اور بات کرنا چاہئے چہ جائیکہ صوبوں کا نام لے کر پہلے سے موجود بے چینی میں مزید اضافہ کر لیا جائے اور مسائل تیز کر لئے جائیں۔ ابھی تک پورے ملک میں عوام سے متعلق مسائل میں توانائی کے بعد مہنگائی ہے اب تک اس حوالے سے صوبائی حکومتوں کی طرف سے عملی طور پر ایسا کچھ نہیں کیا جا سکا کہ گرانی میں کمی آ جائے اور بڑھتی قیمتوں کو بریک لگ سکے۔

نئے صوبوں کی تشکیل کے لئے پیش کی گئی تجویز کے پس منظر میں یہ کہا گیا کہ ملک کا نظام کولیپس (بیٹھ گیا) ہے اور اِسی حوالے سے صوبوں کی تجویز کو ہوا دی جا رہی ہے، میں نے انہی سطور میں عرض کیا اور اب بھی اس پر قائم ہوں کہ نظام آئین نے بنایا اور آئین افراد کی کاوشوں کا مرہون منت ہے اس لئے اسے چلانے کا ذمہ دار بھی یہ فرد اجتماعی طور پر ہے اس لئے اگر نظام میں کوئی مسئلہ ہے تو اس کا تعلق ان پاکستانی افراد سے ہے اگر یہ لوگ خود کو درست کر لیں اور آئین و قانون کے پابند ہو جائیں تو نظام بہتر ہو گا اس کے کولیپس ہونے کا کوئی خدشہ نہیں اگر انسان (پاکستانی افراد) ہی نے خود کو درست نہیں کرنا تو صوبے چھوڑ کر اضلاع بنا لیں کوئی فرق نہیں پڑے گا، اس سب کے باوجود میں خود بھی چھوٹے یونٹوں کا حامی ہوں لیکن اس کے لئے ہمیں ان خرابیوں اور برائیوں پر بھی نظر ڈالنا ہو گی جو ابھی سے پیدا ہونا شروع ہو گئی ہیں، ایک بات یہ کہی جا رہی ہے کہ نئے صوبوں کا مطالبہ اس نئی اشرافیہ کی طرف سے ہو رہا ہے جو گذشتہ تین دہائیوں کے دوران اس زمرے میں داخل ہوئی ہے کہ اس کا شمار اشرافیہ (ایلیٹ کلاس) میں تو ہونے لگا ہے ان کے پاس بھی لینڈ کروز اور مرسیڈیز آ گئی ہیں اور یہ بھی بڑی بڑی کوٹھیوں میں رہنے لگے ہیں لیکن آبائی اشرافیہ ان کے پیر نہیں لگنے دے رہی یوں ان کا مقابلہ اقتدار پر قابض اشرافیہ سے ہے جس کو اپنے اختیار میں حصہ داری قبول نہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جہاں اچھائی ہو، وہاں برائی کا ہونا بھی ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تشکیل اور آدم کی اولاد پیدا کی تو اس کے ساتھ نیکی اور برائی کا عمل بھی جاری ہو گیا جو اب تک چل رہا اور قیامت تک چلے گا اگرچہ یہ بتا دیا گیا ہے کہ نیکی بتدریج کم اور برائی بڑھتی جائے گی۔ گذشتہ دو تین مہینوں سے برسر اقتدار اتحاد کے حوالے سے بھی بہت کچھ کہا گیا، کمزوریوں کا ذکر کیا گیا، اختلافات کی بات کی گئی جو مختلف ایشوز پر اتحادیوں کے درمیان نظر آئے،نئے صوبوں کے حوالے سے بھی اختلافات کا ذکر آ رہا ہے اور کہا یہی جا رہا ہے کہ یہی تجویز سب کو قبول کرنا ہو گی کہ اوپر سے آئی ہے اگر ایسا ہی تو پھر اس تجویز کے داعی حضرات کو کھل کر اظہار بھی کر دینا چاہئے لیکن وہ تو ایسا نہیں کر رہے بلکہ انکار کر رہے ہیں۔

نکتہ دانوں نے یہ بھی بتایا کہ صدر زرداری صوبوں کے حق میں نہیں، یوں ان کی جماعت بھی یہ نہیں چاہتی ان کا اور ان کی جماعت کا موقف ہے کہ سندھ ناقابل تقسیم ہے۔ دوسرے معنوں میں پیپلزپارٹی کے لئے سندھ میں نئے صوبوں کی گنجائش نہیں چنانچہ جب صدر زرداری فیملی سمیت انگلینڈ گئے اور سندھ اسمبلی نے پھر سے صوبوں کے حوالے سے قرارداد منظور کی کہ سندھ کی تقسیم قبول نہیں، اس مرحلے پر کہا گیا کہ آصف علی زرداری اور ”طاقت کے مرکز“ کے درمیان غلط فہمی پیدا ہو گئی کہ وہ خود ساختہ جلاوطنی پر چلے گئے ہیں تاہم صدر زرداری کے مزاج کو پیش نظر نہ رکھا گیا کہ وہ جتنے صلح کن (بلکہ بعض حضرات موقع پرست کہتے ہیں) ہیں اتنے ہی سخت بھی ہیں اگرچہ پہلی بار عہدہ صدارت پر براجمان ہونے کے بعد ان کا یہ بہادرانہ شوق کم ہو گیا تھا اور وہ اس دعویٰ کے ساتھ صدارت اور مصالحت چلا رہے تھے کہ جماعت اور جماعت کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ ترقی پسند قوتوں کا بھی تحفظ کرنا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس بار پھر تجزیہ کاروں کا اندازہ غلط ثابت ہوا اور وہ اطمینان سے واپس آ گئے اور کچھ کہے بغیر اپنے صدارتی فرائض انجام دینے لگے البتہ بلاول بھٹو شاید اپنی سالگرہ کی خوشی میں چھٹی منا رہے ہیں۔ (اب ایک تصویرکی اشاعت سے یہ تاثر دیا گیا کہ اجتماع بلاول کی سالگرہ کا تھا کہ وہاں صنم بھٹو بھی شریک ہوئیں)

آج کی تحریر کے اصل مقصد کی طرف آتا ہوں کہ سندھ میں متحدہ نے بڑی زور دار تحریک بنانے کی کوشش کی اور کر رہی ہے کہ سندھ میں صوبے بن جائیں اب تو ڈاکٹر فاروق ستار نے ٹھونک بجا کر کہہ دیا ہے کہ سندھ کے چھ یونٹ بنا کر رہیں گے اور بنیں گے تاہم اس روا روی میں کسی نے مصطفےٰ کمال کی اس بات پر غور نہیں کیا، جو انہوں نے دو روز قبل کراچی میں کہی شاید، ان کو زبان پر سیاسی قدرت حاصل نہیں ہے انہوں نے نیا نعرہ ایجاد کیا کہ پاکستان بچانا ہے توصوبے بنانا ہوں گے۔اللہ پاکستان کا برا چاہنے والوں کی زبان کالی کر دے، ہم کتنے بدقسمت ہیں کہ ملک کے قیام کے ساتھ ہی اس کے ختم ہونے کا اعلان سنتے رہے ہیں اور اب پھر ذاتی اور جماعتی مقاصد کے لئے ویسی ہی زبان استعمال کی جانے لگی ہے۔میرے چند سندھی اور باشعور غیر سندھی حضرات نے یہ سوال بھی پوچھا ہے کہ ایم کیو ایم نے انتظامی لحاظ سے یونٹ بنانے کی بات کی تو کیا وہ اِس بات کا اعلان کریں گے کہ وہ مہاجر یا اردو بولنے والی قوم نہیں،بلکہ سندھی ہیں کہ یا تو سندھ میں پناہ لینے والے ہیں اور یا پھر ان کی اولاد جو سندھ کے صوبے میں پیدا ہوئی،ان کو سندھی کہلوانے میں کیا امر مانع ہے کہ وہ اب بھی خود کو مہاجر اور اردو سپیکنگ کہتے ہیں۔اگرچہ اسے کئی اور پردوں میں چھپاتے ہیں اور شہری سندھ اور دیہی سندھ کہتے ہیں جیسے سندھی شہری نہیں۔میں عرض یہی ہے کہ ہم پنجابیوں کو اس بناء پر گالی نہ دینا کہ ہم پہلے پاکستان کی بات کرتے اور پنجاب میں جو کوئی مشرقی پنجاب سے یا یو پی بہار سے آیا وہ اب پنجابی ہے مہاجر نہیں۔