نصف آبادی کی حرمت و تقدس کے تقاضے!

وجوہ کچھ بھی ہوں گے مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ قومی زندگی کے مختلف شعبوں کی اصلاح و احوال کیلئے جن اقدامات کی سرکاری سطح پر بے پناہ تشہیر و اعلانات ہوتے ہیں، عملی طور پر ان پر صحیح معنوں میں اقدامات کا سلسلہ کم ہی نظر آتا ہے جیسا کہ خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود اور حقوق کے تحفظ کے حوالے سے جو اعلانات اور بیانوں کی بھرمار دیکھنے میں آئی ہے ان پر عملدرآمد دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہی رہتی ہیں،بالخصوص خواتین آئے دن جن وارداتوں کا نشانہ بنی رہی ہیں۔ اس کی مثال بھی پیش نہیں کی جا سکتی، جیسا کہ گذشتہ دِنوں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقہ کمالیہ میں ایک غریب ریڑھی بان خاتون سے مبینہ طور پر بدسلوکی کی گئی،جوتوں سے اس پر تشدد کیا گیا۔ یہ ظلم ناروا سب انسپکٹر عمران غفور کی طرف سے کیا گیا اور اس ظلم کی ویڈیو وائرل ہونے پر آئی جی پنجاب عبدالکریم نے نوٹس لیا اور سب انسپکٹر عمران غفور کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا، خبر رساں ادارے آئی این پی کی رپورٹ کے مطابق دو ہفتے قبل راولپنڈی میں ایک خاتون کو اس کی دو کمسن بیٹیوں سمیت اغوا کر لیا گیا تھا اس سنگین واردات کا مقدمہ تھانہ صدر بیرونی میں 12ستمبر کو درج ہوا۔ اغوا ہونے والوں میں ڈیڑھ سالہ آیت نور اور چار سالہ شفا نور اور ان کی والدہ نبیلہ شاہین شامل ہیں۔ ابھی تک ان کا سراغ نہیں مل سکا۔اسی روز صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقہ شالیمار میں ایک بیوہ خاتون کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے اور اس سے رقم ہتھیانے پر پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم فیصل دھوکہ دہی کے ذریعے بیوہ خاتون کو مسلسل زیادتی کا نشانہ بناتا رہا اور راز افشا کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا رہا،اسی طرح ایک قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق چار اکتوبر کو نجی یونیورسٹی لاہور کی طالبہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے والے ملزم عبدالرحمن کو گرفتار کیاگیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق طالبہ نے سوشل میڈیا پر اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل میں کہا تھا کہ اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے بیہودہ زبان استعمال کی گئی۔ حقائق کی زیر تذکرہ صورتحال میں مبینہ زیادتی سے متاثرہ ایک خاتون جو آذربائیجان سے تعلق رکھتی ہے،یہ خاتون لاہور میں مبینہ زیادتی کا نشانہ بنی تھی اور20سالہ ہیں،لاہور پولیس نے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں ایک ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کے مطابق اس سلسلہ میں ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے،متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا ہے، مقدمے میں نامزد دیگر دو نامعلوم ملزموں کی گرفتاری کیلئے کارروائی جاری ہے۔ حقیقت کچھ یوں ہے کہ ہمارے خواتین کے حوالے سے آئے دن منظر عام پر جو وارداتیں دیکھنے کو ملتی ہیں، یہ پورے معاشرے کیلئے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہیں آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے اور ایسی وارداتوں میں اضافہ کسی صورت بھی مہذب اور پُرامن انسانی معاشرے کیلئے نیگ شگون قرار دیا جا سکتا ہے نہ ہی اِس سے اربابِ حکومت کو ایسی سنگین صورت حال سے بری الازمہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ زیر تذکرہ حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ خواتین کے حقوق و فلاح بہبود کے حوالے سے اربابِ اختیار کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات اور دعوے ابھی تک نقش برآب ثابت ہو رہے ہیں۔ اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ملک میں خواتین کی کم و بیش پچاس فیصد آبادی ہے جن کے حقوق کی نگہداشت اور تحفظ کے موثر انداز میں اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ملک کی نصف آبادی کی حرمت، تقدس اور تحفظ کا معاملہ ہے۔