واشنگٹن میں پاکستانی صحافیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، مصنوعی ذہانت پر تربیت کا اعلان

واشنگٹن(نمائندہ خصوصی) پاکستانی امریکن پریس ایسوسی ایشن اور مسلمز آف امریکا کے اشتراک سے اقوامِ متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کی کوریج کیلئے پاکستان سے امریکا آنیوالے سینئر صحافیوں کے اعزاز میں استقبالیہ اور عشائیے کا اہتمام کیا گیا ، پاکستان اور امریکا میں مقیم صحافیوں، میڈیا نمائندوں اور پاکستانی کمیونٹی کی شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کارروائی، عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سیاسی و سلامتی کی صورتِ حال، پاکستان کے مؤقف اور صحافت کو درپیش نئے چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان سے آنے والے صحافیوں نے جنرل اسمبلی کے اجلاسوں، عالمی رہنماؤں کی سرگرمیوں اور سفارتی رابطوں کی کوریج کے دوران اپنے مشاہدات اور تجربات بھی شرکاء کے ساتھ شیئر کیے۔

اقوامِ متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب دنیا کو متعدد جنگوں، انسانی بحرانوں، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، موسمیاتی خطرات اور نئی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 81ویں اجلاس کا موضوع ’’اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایک ایسا اقوام متحدہ جو سب کے لیے مؤثر ہو‘‘ ہے، جبکہ اعلیٰ سطحی ہفتے میں تقریباً 130 سربراہانِ مملکت و حکومت کی شرکت ہوئی۔

شرکاء نے کہا کہ جنرل اسمبلی کی کوریج عالمی رہنماؤں کی تقاریر تک محدود نہیں رہی بلکہ غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال، ایران اور اسرائیل سے متعلق کشیدگی، یوکرین سمیت مختلف تنازعات اور عالمی نظام میں آنے والی تبدیلیاں بھی بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز رہیں۔

پاکستانی امریکن پریس ایسوسی ایشن کے صدر خرم شہزاد اور جنرل سیکریٹری یوسف چوہدری نے پاکستان سے آنے والے صحافیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریبات کا مقصد پاکستان اور امریکا میں کام کرنیوالے صحافیوں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانا اور پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے کیلئے مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

تقریب میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ سمیت انور اقبال، متین حیدر، کامران راجہ، نیئر علی، شاکر عباسی، راجہ زاہد اختر خانزادہ، شبیر علی، ذوالقرنین، بتول راجپوت، نضیرہ عاظم اور انس سمیت دیگر صحافی شریک ہوئے۔

گفتگو کے دوران صحافت میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نئے امکانات اور چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نیوز روم اور صحافتی طریقۂ کار کو تیزی سے تبدیل کررہی ہے، تاہم خبر کی تصدیق، تحقیق، انسانی ادارتی نگرانی، غلط معلومات کی روک تھام اور صحافتی اخلاقیات کی اہمیت برقرار ہے۔

مسلمز آف امریکا کے سربراہ اور پاکستانی امریکن کمیونٹی کی معروف شخصیت ساجد تارڑ نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے پاکستانی صحافیوں کیلئےمصنوعی ذہانت اور جدید صحافتی ٹیکنالوجی سے متعلق تربیتی کلاسز کے انعقاد کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق تربیت کا مقصد پاکستانی صحافیوں کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تحقیق اور بدلتے ہوئے عالمی صحافتی ماحول سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دینا ہے۔

تقریب کے دوران مسلمز آف امریکا کی جانب سے صحافیوں کی پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں تعریفی اسناد بھی پیش کی گئیں، جو ساجد تارڑ نے صحافیوں کو دیں۔

مقررین نے پاکستان اور امریکا کے درمیان عوامی اور پیشہ ورانہ روابط کو فروغ دینے میں بیرونِ ملک پاکستانی صحافیوں اور کمیونٹی تنظیموں کے کردار پر بھی گفتگو کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ امریکا میں موجود پاکستانی میڈیا پاکستانی کمیونٹی کو وطن سے جوڑے رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان سے متعلق معاملات اور پاکستانی نقطۂ نظر کو امریکی معاشرے تک پہنچانے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔

شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ تیزی سے تبدیل ہوتے عالمی سیاسی ماحول میں صحافی کی بنیادی ذمہ داری خبر کو تصدیق، توازن اور پیشہ ورانہ دیانت کے ساتھ عوام تک پہنچانا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور سماجی ذرائع ابلاغ کے دور میں معلومات کی رفتار بڑھنے کے ساتھ درست اور غلط معلومات میں فرق کرنے کی صحافتی ذمہ داری بھی مزید اہم ہوگئی ہے۔