وزیراعظم سے کہہ رہا ہوں کہ میری باتیں سنیں لیکن وہ بہت مصروف ہیں:قیصر احمد شیخ

کراچی (این این آئی) وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری و چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے حکومت، بیوروکریسی اور صوبوں میں اختیارات کی تقسیم سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے کہہ رہا ہوں کہ میری باتیں سنیں لیکن وہ بہت مصروف ہیں۔

کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے قیصر احمد شیخ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے بیوروکریٹس کے گروپ ہیں، بیوروکریٹس بعض اوقات منصوبوں میں سہولت فراہم کرنے کے بجائے خامیاں تلاش کرتے ہیں، سیاسی اختلافات اور مختلف گروپوں کی کشمکش سے بھی معاشی معاملات متاثر ہوتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات منتقل ہوئے لیکن یہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق سندھ اور پنجاب میں صورتحال تقریباً یکساں ہے اور صوبائی حکومتوں کو اختیارات بلدیاتی سطح تک منتقل کرنے چاہئیں۔

قیصر احمد شیخ نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی مرکز ہے اور ملکی آمدن میں شہر کا بڑا حصہ ہے، تاہم کراچی کو اس کی معاشی کارکردگی کے مطابق سیاسی اہمیت نہیں مل سکی، شہر کو اس کا جائز معاشی اور سیاسی مقام ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ معیشت ہے اور وہ موجودہ معاشی صورتحال کے حوالے سے خوفزدہ ہیں، عام آدمی شدید پریشانی کا شکار ہے جبکہ غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ ملکی ترقی کے لیے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار، برآمدات اور روزگار میں اضافہ ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر پاکستان میں نئے اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کے حامی ہیں، تاہم مسلم لیگ ن اور پارلیمنٹ میں اس معاملے پر تاحال کوئی باقاعدہ بحث شروع نہیں ہوئی۔

قیصر احمد شیخ نے بتایا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو سہولت دینے اور کاروباری ماحول آسان بنانے کے لیے اقدامات کررہی ہے، جبکہ معدنیات، توانائی، زراعت، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔