وہ کھلاڑی کہاں گئے؟

پاکستان میں کھیلوں کے میدانوں میں ہماری کارکردگی اِس قدر بری ہوچکی ہے کہ کھیلوں کے بڑے مقابلے قریب آتے ہیں، کوئی ٹیم پاکستان سے باہر جاتی یا پاکستان آتی ہے تو دِل میں کامیابیوں کی اُمید جنم بھی نہیں لیتی یوں یہ آس بند ہوچکی ہے۔ شاید اب وہ کھلاڑی ہی نہیں رہے جنہیں دیکھ کر ہم جوان ہوئے تھے۔ بچپن میں ہاکی کو اپنا آئیڈیل بنایا کہ اس زمانے میں پاکستان اولمپکس، ورلڈکپ، چیمپینز ٹرافی، ایشین گیمز ہر جگہ چھایا ہوا تھا۔ پاکستان کے ہاکی کھلاڑیوں کا کوئی مقابل ہی نظر نہیں آتا تھا۔ اصلاح الدین، حسن سردار، شہناز شیخ، سمیع اللہ، کلیم اللہ، منیر ڈار، تنویر ڈار، توقیر ڈار، اختر رسول، حنیف خان، قاسم ضیاء، شہباز سینئر، طاہر زمان، سہیل عباس کس کس کا نام گنوائیں کہ ان کو کھیلتے اور گول کرتے دیکھ کر گھر گھر سے نعرے بلند ہوتے تھے، لیکن پھر ”آسٹروٹرف“ آئی اور پاکستان ہاکی کا زوال شروع ہو گیا۔ ہاکی کے زوال سے دلبراشتہ قوم کو کرکٹ میں پناہ مل گئی۔ کرکٹ میں بہتری شروع ہوئی وہ کرکٹ جو پاکستان بننے کے عبدالحفیظ کاردار، فضل محمود، نذر محمد، حنیف محمد اور دیگر بڑے ناموں سے شروع ہوئی اور پھر کرکٹ کے میدانوں میں آصف اقبال، مشتاق محمد، ظہیر عباس، ماجد خان، جاوید میانداد، عمران خان، سرفراز نواز، وسیم راجہ اور دیگر نے پاکستان کیلئے فتوحات سمیٹنا شروع کیں، لیکن نہ جانے پھر ہمارے اِس کھیل کو بھی کسی کی ”نظر“ لگ گئی۔ 1992ء میں ورلڈ کپ کی فتح کے بعد ٹیم میں ایسی لڑائیاں، چپقلشیں، رنجشیں، گروپنگ شروع ہوئی کہ ٹیم پھر سنبھل نہیں پائی اور آج بھی وہی بُرا حال ہے۔ ”مردانہ کرکٹ ہو یا زنانہ“ پاکستانی قوم مینز ٹیم کے حوالے سے سمجھتی ہے کہ یہ مردانگی دکھائیں گے، میدان میں اُتریں گے اور فتح حاصل کر کے دکھائیں گے۔ خواتین کی ٹیم میدان میں اُترتی ہے تو لوگ سوچتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ ہماری لڑکیاں آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، بھارت حتیٰ کہ سری لنکا سے بھی ہار جاتی ہیں لیکن شاید ہماری زنانہ ٹیم یہی سوچتی ہے کہ جب ”مردانہ ٹیم“ کچھ نہیں کرسکتی تو ہم ان ممالک کی ”زنانیوں“ کا کیا بگاڑ لیں گے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ”ٹیم پر نازل“ ان کھلاڑیوں نے جو اپنے آپ کو ”سابق سٹار“ کہلواتے ہیں زیادہ خرابیاں پیدا کی ہیں۔ عاقب جاوید جن کو آج کی نئی نسل بڑا ہی ”باکمال فاسٹ بولر“ سمجھتی ہے وہ ایک اچھے کھلاڑی ضرور تھے، لیکن کبھی بھی ”اعلیٰ پائے کے یا غیر معمولی فاسٹ بولر“ نہیں رہے۔ جہاں تک بات ہے وہاب ریاض کی تو ان کے ساتھ اگر ان کے ”امیر اور بااثر خاندان“ کی طاقت نہ ہوتی تو شاید وہ اتنی کرکٹ ہی نہ کھیل سکتے۔ ان سے بہتر کھلاڑی میدان میں اُترنے کی حسرت لئے رخصت ہو گئے۔ عاقب جاوید اور وہاب ریاض نے ”مردانہ اور زنانہ“ کرکٹ ٹیمیں سنبھالی ہوئی ہیں۔ کہتے ہیں کہ زنانہ ٹیم پرچی پر چلتی ہے تو مردانہ ٹیم کون سی پرچی پر نہیں چلتی۔ ان کے بارے تو یہی مشہور ہے کہ جو بھی سلیکٹر ہوتا ہے وہ جیب سے پرچی نکالتا ہے کہ یہ شامل کرلو تو میں آپ کی مرضی کی ٹیم پر سائن کردوں گا، یعنی سب سلیکٹرز کی جیب سے اپنی اپنی پرچیاں نکلتی ہیں اور ایک ٹیم بن جاتی ہے۔ زنانہ ٹیم کے بارے بھی باخبروں کا کہنا ہے آج بھی ٹیم میں شمولیت چند مخصوص لڑکیوں یا گروپوں کے ہاتھوں میں ہے۔ وہی ٹیم میں شمولیت کو ”مینج“ کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں اچھا کھلاڑی اور اچھا رزلٹ کیسے آئے گا۔ پاکستانی ٹیم نے رواں سال مصروف ٹیسٹ سیزن کھیلنا تھا، بہت اُمید تھی کہ اِس سال ہم کچھ کر کے دکھائیں گے لیکن ہم مکمل فیل ہو گئے۔ بنگلہ دیش گئے تو انہوں نے اپنی سرزمین پر وائٹ واش کرکے واپس بھیجا۔انگلینڈ گئے تو 70 سال میں پہلی دفعہ وہاں سے بھی وائٹ واش کی ذلت لیکر گھر لوٹے۔ انگریز کرکٹ کمنٹیٹرز نے جو سلوک ہمارے کھلاڑیوں کے ساتھ کیا اور جو زبان استعمال کی اس پر شرم آرہی تھی، لیکن ہمارے کھلاڑیوں کو تو انگریزی نہیں آتی انہیں کیا فرق پڑنا تھا۔ ہمارے کھلاڑی مین آف دی میچ کا ایوارڈ لینے جائیں تو اٹک اٹک کر بات کرتے ہیں،انہوں نے کیا انگریزی سمجھنی ہے اور انہیں انگریز کمنٹیٹرز کی کیا سمجھ آنی ہے۔ شان مسعود کو شاید کپتان ہی اس لئے بنایا گیا تھا کہ وہ انگریزی سمجھتے ہیں اور ”زیادہ پڑھے لکھے“ ہیں۔

پاکستان مینز ٹیم اس سال 7 ٹیسٹ میچ کھیل چکی ہے جس میں 6 میں شکست اور صرف ایک ٹیسٹ میچ میں کامیابی نصیب ہوئی۔انگلینڈ نے تینوں اور بنگلہ دیش نے دونوں ٹیسٹ میں بدترین شکست دی جبکہ ویسٹ انڈیز میں دونوں ٹیموں نے ایک ایک میچ جیتا۔ گذشتہ سال پاکستان نے پانچ ٹیسٹ کھیلے تھے، تین میں شکست اور 2 میں کامیابی ملی تھی۔ 2024ء میں پاکستان نے سات ٹیسٹ میچ کھیلے، 5 ہارے اور صرف دو جیتے۔

خواتین کرکٹ ٹیم کا اس سے بھی برا حال ہے۔ عالمی کپ میں پاکستانی لڑکیاں بھارت، آسٹریلیا، بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ سے ہار گئیں جبکہ واحد فتح جو ملی وہ ہالینڈ کے خلاف ملی۔ ایشیا کپ میں پاکستان نے تھائی لینڈ کو اور ہانگ کانگ کو شکست دی جبکہ بھارت کے ہاتھوں بدترین شکست ہوئی اور پوری ٹیم صرف 55 سکور پر آؤٹ ہو گئی۔ سیمی فائنل میں سری لنکا نے 4 وکٹوں سے پاکستان کو ہرا دیا۔ایشین گیمز میں پاکستان نے براہ راست کوارٹر فائنل کھیلا اور تھائی لینڈ کو مشکلوں سے ہرایا۔ سیمی فائنل میں دفاعی چیمپئن سری لنکا نے پاکستان کے بنائے 177 رنز بڑی آسانی سے 17.5 اوور میں 2 وکٹوں کے نقصان پر پورے کرلئے لیکن پاکستان لڑکیوں کے گلے میں کانسی کے تمغے ضرور ڈالے گئے، کیونکہ پاکستان نے تیسری پوزیشن کے میچ میں بنگلہ دیش کو شکست دی۔ پاکستان نے 145 رنز بنائے اور بنگلہ دیش کو 114 پر محدود کر دیا۔ یہ رواں سال کی ہماری زنانہ ٹیم کی کارکردگی ہے جس کو تیاری کیلئے ہم نے زمبابوے سے لڑایا۔ جہاں 3 ون ڈے انٹرنیشنل اور 3 ٹی ٹونٹی کھیلے اور دونوں میں دو، دو جیتے اور ایک،ایک ہارا۔ اس کے بعد پاکستان کا مقابلہ سہ ملکی ٹورنامنٹ میں آئرلینڈ اور ویسٹ انڈیز سے ہوا، ہم دونوں میں ہار گئے۔ جنوبی افریقہ سے میچ ہوئے تو وہاں دو ایک روزہ میچوں میں شکست اور ایک میں جیت ملی جبکہ تین ٹی 20 میچوں میں دو میچ پاکستان نے ہارے اور ایک جیتا۔ یہ ایشیا کپ اور ایشیا گیمز اور ورلڈ کپ کی تیاریاں تھیں جس میں قومی ٹیم کو کمزور ٹیموں سے لڑایا گیا۔ ان حالات میں ہم کہاں جائیں گے۔ جب تک ان ٹیموں کیلئےکوئی ائیر مارشل نور خان نہیں آئیگا،کچھ نہیں ہو گا۔اب تو چیف پیٹرن کو آگے بڑھ کرکچھ کرنا ہو گا ہمارے محسن نقوی صاحب نے تو بوجھ عاقب جاوید کے سپرد کر رکھا اور وہ خوب کھیل رہے ہیں۔