پارٹ ون آگیا، ٹو، تھری، فور اور فائیو بھی آسکتے ہیں: فیصل واوڈا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ پارٹ ون آگیا، ٹو، تھری، فور اور فائیو بھی آسکتے ہیں، آپ لوگ باریک بات سمجھ جاتے ہیں، کہہ رہا ہوں کہ خیبر پختونخوا سے سلسلہ شروع ہوا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ یہ وہ ذہنیت ہے جو کہتی ہے کہ پاکستان کا جھنڈا نہیں اٹھائیں گے، ہم ان کی نسلیں تباہ کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی مکمل ختم کریں گے، خیبر پختونخوا کابینہ کے آٹھ ارکان میرے پاس تھے۔ جو رہ جائیں گے، وہ رہ جائیں گے، باقی بہہ جائیں گے۔ سیاسی دہشت گردی، ریاستی دہشت گردی اور ملکی دہشت گردی، ان سب معاملات کو اب دیکھا جائے گا۔

فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ صوبے کے عوام کے مفاد میں ہے۔ اب عوام جھوٹے نعروں پر نہیں بکے گی، 180 دن میں عوام کو ریلیف ملے گا۔ ریلیف عبدالغفور دے یا عبدالقدوس، عوام خوش ہوں گے۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ بلوچستان کی حکومت اور کسی سیاسی جماعت کے بھی حامی نہیں ہیں، تاہم اگر کوئی دہشت گرد سامنے آئے گا تو سب مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔ نہ صوبہ ٹوٹنے جا رہا ہے اور نہ ہی کچھ اور ہونے جا رہا ہے۔ نجومی کے لیے علم نجوم ہونا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 13 سالہ حکمرانی کا نتیجہ صرف تباہی ہے۔ محافظ شہید ہوں اور آپ مزے کریں، یہ نہیں ہوگا۔ دہشت گردی میں 195 فیصد اضافہ ہوا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ شہدا کے حوالے سے منفی بات کرنے والوں کی زبان کھینچ لیں گے۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ دہشت گردانہ ذہنیت رکھنے والوں کی وجہ سے دہشت گردی میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ بہت سے حقائق ہیں جنہیں وہ چھپانا نہیں چاہتے، تاہم دہشت گردی کا خاتمہ منٹوں یا دنوں میں نہیں کیا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال تشویش ناک تھی، اس لیے ایمرجنسی ناگزیر تھی۔ خیبر پختونخوا میں 13 سالہ حکومت کے دوران ہر طرف تباہی ہوئی۔ مخصوص ذہنیت کے حامل افراد 13 سال تک صوبے پر حکمرانی کرتے رہے۔ ان کے بقول پاکستان تحریک انصاف کا دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ تھا اور لوگوں کو لے جا کر طوفان برپا کرنے کی کوشش کی گئی۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ قومی ترانے اور پرچم کی بے حرمتی کرنے والوں کو عوام نشان عبرت بنا دیں۔ امید ہے کہ گورنر خیبر پختونخوا اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔ اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو کوئی اور آجائے گا، لیکن کامیابی یقینی ہے، ہمارے پاس ناکامی کا کوئی امکان نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ہمارے جوان شہید ہورہے ہیں۔ دہشت گردی ختم کرنا ضروری ہے اور اس جنگ میں عام شہریوں اور فوج کے اہلکاروں نے قربانیاں دی ہیں۔

سینیٹر نے کہا کہ 600 افراد کے ساتھ آپ 25 کروڑ عوام کے ملک کو فتح کرنے نکلے تھے۔ افغان شہریوں کو صوبے سے نکالا کیوں نہیں گیا، انہیں وہاں کیوں رکھا گیا؟ ان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے جھوٹے نعرے عوام کے سامنے بے نقاب ہوگئے ہیں اور 60 دن کے اندر نتائج سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ اگر بلوچستان میں دہشت گرد موجود ہیں تو کیا ہم کچھ لوگوں کو الگ کرکے یہ کہیں گے کہ انہیں کچھ نہ کہا جائے؟ صوبہ ٹوٹنے نہیں جارہا، بلوچستان کے بارے میں جو چھوٹی موٹی قسط تھی، وہ ختم ہوگئی۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ پاکستان کی کہانی جو بچوں کو سنانی ہے، اس میں نظام کو دوبارہ شروع کرنے کا راستہ اختیار کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ اس عمل میں بہت سی چیزیں حذف بھی ہوجاتی ہیں۔

فیصل واوڈا نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ان کے آٹھ دوست ساتھ تھے، جن سے انہوں نے کہا کہ اب شو ختم ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کارکردگی صفر ہے اور 13 سال میں کچھ نہیں کیا گیا۔ معاشی دہشت گردی کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گرفتاریاں ملی بھگت سے ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر مقبولیت کے دعوے کرنے والے اب کہاں ہیں؟ ان کے مطابق اب کسی سیاسی جماعت کے پاس سیاسی قوت نہیں رہی۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ عوام کو صرف ریلیف سے مطلب ہے اور اب سب کچھ کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا۔ ان کے بقول موجودہ انتظامی بندوبست جمہوری نظام کے تحت ہی آیا ہے اور عوام اب جھوٹے نعروں پر نہیں بکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام اس لیے باہر نہیں نکلے کہ وہ تھک چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے لوگ کہتے تھے کہ اگر ان کا لیڈر نہ ہوا تو پاکستان نہیں ہوگا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے متعلق سوال پر فیصل واوڈا نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے سہیل آفریدی کو پھنسوا کر گرفتار نہیں کرایا۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو گھٹیا سیاست دان قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب انہیں معلوم ہوگا کہ اب عوام کو ریلیف مل رہا ہے تو وہ بھی سمجھ جائیں گے۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان ملکی ترقی میں ان کے ساتھ ہیں۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ وہ نظام کو دوبارہ شروع ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ جمہوریت چلانے کے لیے بچہ جمہور لانا پڑے گا۔ جب ہر جگہ سے ناکامی ہو تو موبائل فون کی طرح نظام کو دوبارہ شروع کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل پاکستان کو کامیابیاں دلا رہے ہیں، ان کی قدر کرنی چاہیے۔فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف نے انہیں سیاست سکھائی تھی اور وہ انہیں اس دلدل اور کھائی سے بچانا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی کابینہ میں اچھے لوگ بھی تھے۔ وہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھیوں کو مشورہ دیں گے کہ ملک کی خدمت کے لیے کسی دوسری جماعت میں شامل ہوجائیں۔ ان کے بقول پاکستان تحریک انصاف اب کہیں نہیں اور نہ ہی ہوگی۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ گورنر راج غیر آئینی نہیں بلکہ آئین میں اس کی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی گھٹیا جمہوریت پر ماتم کرنا چاہیے تھا۔