پنجاب یونیورسٹی کا کتاب میلہ

​پنجاب یونیورسٹی کا شمار پاکستان کے ان گنے چنے چند اداروں میں ہوتا ہے جن پر بے ساختہ فخر کیا جا سکتا ہے۔ عالمی سطح پر شناخت رکھنے والی پنجاب یونیورسٹی اپنی شاندار روایات کے بل بوتے پر نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ یہاں کا تعلیمی و تربیتی ماحول طلباء کی زندگی کا اصل اثاثہ بن جاتا ہے۔ میں نے پنجاب یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلباء کو دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات سر انجام دیتے دیکھا ہے؛ ہر کوئی پنجاب یونیورسٹی میں گزرے وقت کو اپنے کیریئر اور زندگی کے بہترین لمحات قرار دیتا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل چاہے کسی بھی اعلیٰ مقام پر پہنچ جائے، وہ پنجاب یونیورسٹی کی یادوں کو کبھی بھلا نہیں پاتا۔

​شاندار تدریسی عمل کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیاں، سپورٹس، ہوسٹل لائف، اور درختوں کا حسن اس کا خاصہ ہیں۔ لاہور میں سب سے زیادہ درخت، ہریالی اور خوبصورت گراؤنڈز پنجاب یونیورسٹی ہی میں ہیں۔ نہر کا لاجواب منظر اور سیکڑوں مثبت سرگرمیاں اسے دیگر تمام اداروں سے منفرد بناتی ہیں۔ آج کل کے کمرشل دور میں، جہاں دو دو کنال کے پلاٹوں میں یونیورسٹیاں قائم ہیں اور “سائیکلو اسٹائل” ایجوکیشن کے علاوہ کوئی تخلیقی سرگرمی دکھائی نہیں دیتی، وہاں پنجاب یونیورسٹی پوری ریاست کا نقشہ پیش کرتی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کے ویژن نے تو پوری یونیورسٹی کا ماحول تبدیل کر دیا ہے بہترین انتظامی اقدامات کے باعث بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں اب یونیورسٹی میں مافیاز کی بجائے منتظمین نظر آتے ہیں.

​ویسے تو پنجاب یونیورسٹی میں درجنوں تقریبات ہر سال پورے اہتمام کے ساتھ منعقد کی جاتی ہیں، لیکن اس کا “کتاب میلہ” اب بین الاقوامی شہرت حاصل کر چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آج کے دور میں پڑھنے کے بجائے دیکھنے اور سننے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ موبائل فون اور لیپ ٹاپ ہر گھر میں سرائیت کر چکے ہیں۔ کتابوں میں معلومات ڈھونڈنے کے بجائے نوجوان نسل انٹرنیٹ اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کو حکم صادر فرمانا زیادہ آسان سمجھتی ہے۔ ادھر کلک کیا اور ادھر جواب حاضر! لیکن یہ سارے ڈیجیٹل ٹولز وہی کچھ پیش کر سکتے ہیں جو ان میں فیڈ (Feed) کیا جاتا ہے، جبکہ کتابوں میں تو علم کے سچے خزانے دفن ہیں۔ ہر لکھاری کا اپنا طرزِ تحریر، سوچ، تجربات، واقعات اور مشاہدات ہوتے ہیں۔ کسی بھی طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کو کتابوں کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگرچہ آئی ٹی دورِ حاضر کی کمال ایجاد ہے اور اس کی برق رفتاری سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا، لیکن مکمل طور پر انسانی زندگی کو آئی ٹی کے تابع بھی نہیں کیا جا سکتا۔

​بات پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والے کتاب میلے کی ہو رہی تھی۔ پنجاب یونیورسٹی کا تین روزہ کتاب میلہ اب پاکستان کی سالانہ مرکزی ثقافتی و علمی تقریب بن چکی ہے۔ اس کی کامیابی کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر سال یہاں سٹالوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور کتابوں کی ریکارڈ فروخت ہوتی ہے۔ پچھلے سال پونے دو لاکھ کتب فروخت ہوئی تھیں، جبکہ اس سال دو لاکھ سے زائد کتابیں فروخت ہوئیں۔

​تین دن تک جاری رہنے والا یہ کتاب میلہ پنجاب یونیورسٹی کا سالانہ فیسٹیول بن چکا ہے۔ خاص کر اس سال اس میں جو خوبصورت اضافے ہوئے، انہوں نے میلے کو چار چاند لگا دیے۔ اس سال نہ صرف رعایتی قیمتوں پر ریکارڈ کتابیں فروخت ہوئیں، بلکہ کئی نئی کتب کی تقریبِ رونمائی بھی پنجاب یونیورسٹی کی زینت بنی۔ سابق آئی جی پولیس دانشور ذوالفقار چیمہ نے قلم فاونڈیشن کے سٹال پر کھڑے ہو کر اپنی کتابوں پر چاہنے والوں کو آٹو گراف دیے،کتب بینی کی اہمیت پر مکالمے ہوئے اور سب سے بڑھ کر طلباء کو اپنے کاروبار کی طرف راغب کرنے کے لیے “انٹرپرینیورشپ” (Entrepreneurship) کے سٹالز بھی لگائے گئے، جہاں طلباء نے اپنی تخلیقات کی نمائش کی۔ ان سٹالوں پر شائقین کی دلچسپی نے طلباء میں اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے کا حوصلہ بڑھایا۔

​تین روزہ کتاب میلے کا افتتاح صوبائی وزیرِ کھیل و امورِ نوجوانان فیصل کھوکھر نے کیا۔ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر محمد علی، ممتاز دانشور، کالم نگار اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ صوبائی وزیرِ کھیل نے مختلف سٹالوں سے اپنی پسند کی کئی کتابیں خریدیں۔ انہوں نے طالبات کے سٹالز سے اپنی بیٹی کے لیے ہاتھ سے بنی ہوئی متعدد اشیاء خرید کر ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔

​دوسرے دن ہر دلعزیز سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان مہمانِ خصوصی تھے، جنہوں نے کتب میلے میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ ہری پور ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ساجد رشید بھی میلے کے مہمانِ خصوصی تھے؛ انہوں نے اگلے سال ہری پور یونیورسٹی میں بھی ایسا ہی شاندار کتاب میلہ منعقد کرنے کا اعلان کیا۔

​وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کی خصوصی دلچسپی کے باعث میلے کے انتظامات انتہائی قابلِ تعریف تھے۔ ان کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے، جس نے دن رات ایک کر کے اس تقریب کو کامیاب بنایا۔ چونکہ میلے کا آغاز انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (IER) ڈیپارٹمنٹ سے ہوتا ہے اور تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے تک کتابوں کے ڈیڑھ سو کے قریب سٹالز لگائے گئے تھے، اس لیے IER کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبدالقیوم چوہدری میلے کے اصل میزبان تھے۔ انہوں نے اس میزبانی کا حق بخوبی ادا کیا۔ انہوں نے ہر مہمان کا خود استقبال کیا اور پھول پیش کیے۔ رضاکار طلباء نے بھی ہر موقع پر آنے والے مہمانوں کی بہترین رہنمائی کی۔ اس کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین، پروفیسر ڈاکٹر نوشین، ڈائریکٹر سپورٹس ڈاکٹر شبیر سرور اور پنجاب یونیورسٹی کے فعال پبلک ریلیشنز آفیسر خرم شہزاد نے بھی دن رات محنت کی۔

​یقینی طور پر پنجاب یونیورسٹی کا کتاب میلہ ایک یادگار اور باوقار تقریب بن چکا ہے، لیکن اسے مزید مؤثر بنانے کے لیے کچھ تعمیری تجاویز پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر: ‘بیسٹ رائٹر’، ‘بیسٹ پبلشر’ اور ‘بیسٹ سیلر بکس’ کے درمیان باقاعدہ مقابلہ کروایا جائے اور بہترین کتاب لکھنے والے مصنف، سب سے زیادہ کتب شائع کرنے والے پبلشر اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب کے لیے انعامات کا اعلان کیا جائے۔