کرکٹ، بری کارکردگی کے بعد ملکی بدنامی؟

ایک طرف پاکستان کو مصالحتی کوششوں کے نتیجے میں دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے اور خارجی طور پر ملک کا نام روشن ہوا ہے تو دوسری طرف ہم خود اتنے ”عقل مند“ ہیں کہ اپنے ملک کی سبکی کا خود ہی اہتمام کر رہے ہیں،خود اپنی ”منجی تھلے ڈانگ“ نہیں پھیرتے اور اپنے آپ کو پارسائی کے مقام پر ”فائز“ کر کے کھلاڑیوں کو قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں۔ کرکٹ سے پیار کرنے والے تمام پاکستانی شائقین اور ماہرین اِس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ کرتا دھرتا اپنے مخصوص مقاصد اور مفادات کی وجہ سے کھیل کے زوال کا باعث ہیں اور اب برطانیہ میں ہونے والی شکست اور متوقع وائٹ واش سے بوکھلا کر جو حرکتیں کیں اور کی جا رہی ہیں ان سے سالوں بعد ایک بار پھر ملکی کرکٹ دھوکا بازی اور فریب دہی کے الزام کی زد میں آ گئی ہے۔ بات یہ ہے ”فعل بد تو خود کرے لعنت بھیجے شیطان پر“ کہ قصور اس فرد اور اس کے ساتھیوں کا ہے جو پیر تسمہ پا بن کر بورڈ کو چمٹا ہوا ہے۔ماہرین اور عوام کا کہنا ہے کہ تمام خرابیوں کی وجہ عاقب جاوید ہیں جو ایک آمر کے طور پر بورڈ کو چلا رہے ہیں۔بورڈ کے چیئرمین محترم محسن نقوی جن کی اصل مصروفیات داخلہ امور کے حوالے سے ہیں انہوں نے بھی اپنا بوجھ عاقب جاوید پر ہی لاد رکھا ہے اور خود عالمی سطح پر نظر آتے ہیں،ان کی توجہ کے بغیر جو گل کھلائے جا رہے ہیں وہ ٹیم کی بدترین حالت سے ظاہر ہیں،لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ اور مراعات لینے والے یہ ”پیر تسمہ پا“ ملک کی بدنامی کرانے بھی پر تُل گئے ہیں۔

خبر تو یہ تھی کہ برطانیہ سے یکایک سات کھلاڑیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کارکردگی کے حوالے سے تھا، (اگرچہ اس پر بھی ماہرین نے تنقید کی تھی) اور جب یہ کھلاڑی واپس بُلا لئے گئے تو تب یہ بتایا گیا کہ چند کھلاڑی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں لیکن اچانک امام الحق اور رضوان سے ان کے موبائل فون لے لئے گئے، بات یہاں تک بھی گوارا تھی لیکن پھر یہ فون ایف آئی اے کے سائبرز کنٹرول شعبہ کے حوالے کر دیئے گئے اور یہ دونوں دو روز قبل ایک پیشی بھی بھگت چکے جو دو گھنٹے کی تھی، عاقب جاوید کی کھال بچاؤ اس مہم سے عالمی سطح پر انگلیاں اُٹھنا شروع ہو گئیں اور اب کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ کھلاڑیوں اور ان کے علاوہ ایک دو اور کے خلاف فکسنگ کے الزام میں تحقیقات ہو رہی ہیں یوں دنیا میں ملک کا نام ایک بار پھر ”جرم“ کے حوالے سے لیا جا رہا ہے اور بدنامی شروع ہو گئی ہے، کیا اس پر کسی نے غور کیا جہاں تک پاکستان اور ملک سے باہر رضوان کی شہرت کا تعلق ہے تو شائقین تو اسے اچانک واپس بلانے کی بھی مذمت کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جتنی زیادہ تبدیلیاں بورڈ کے آمر نے کیں یہ بھی عقل سے ماوراء ہیں کہ یکایک سات کھلاڑی واپس بُلا لئے اور جو متبادل بھیجے گئے ان کا سٹیٹس ٹی20 والا ہے،اس کے ساتھ ہی تیسرے ٹیسٹ کے لئے ایک بار پھر ٹیم کا چناؤ بھی غلط کیا گیا اور اب بدنامی کے ساتھ ساتھ وائٹ وائش کا خطرہ موجود ہے۔

یہ درست کہ رضا اللہ نے اچھی باؤلنگ کی، اس کی رفتار بھی آج کے دور کے مطابق ہے اِسی لئے تو وسیم اکرم نے ملک میں موجود تین دوسرے تیز باؤلروں کا ذکر کیا ہے جو مستقبل کا اثاثہ ہیں لیکن ان کو کسی کھاتے میں نہیں گنا جا رہا،اس کے علاوہ اس کا جواب کیا ہے کہ عبید شاہ ٹیم کے ساتھ ہے اس نے ویسٹ انڈیز میں اچھی باؤلنگ بھی کی، لیکن اسے موقع ہی نہیں دیا گیا اور عمران رندھاوا کو یہاں سے بھیجا اور ٹیم میں شامل بھی کرا دیا گیا۔

میں سمجھتا ہوں کہ بورڈ کی آمریت کے عمل سے ٹیم کا ہر فرد متاثر ہوا ہے اور پلیئنگ الیون کا چناؤ بھی غلط ہے۔ اول تو کامران غلام کو نظر انداز کرنا اور صائم ایوب کو عالمی کھلاڑی سمجھ لینا ہی عقل سے باہر ہے۔ صائم نے ثابت بھی کیا کہ اس کے کھیل کی تکنیک ہی ٹھیک نہیں اور دونوں اننگز میں انڈہ لے کر ریکارڈ ہولڈروں میں شامل ہو گئے۔ یہاں میں ایک اور عرض کروں اول تو صائم کی جگہ نہیں بنتی تھی اور اگر اسے شامل بھی کر لیا گیا تو دوسری اننگ میں پھر سے اوپننگ کرانا درست نہیں تھا اسے مڈل آرڈر میں رکھ کر شان ہی سے اننگز شروع کرائی جا سکتی تھی جو اب اذان اور شان کی موجودگی سے ثابت ہے۔سابقہ تجربے ہی کی بناء پر عبداللہ شفیق کا نمبر تبدیل کر کے بابر اعظم خود یا سعود شکیل اس نمبر پر کھیلتے تو حالات تبدیل ہوتے، لیکن ایسا ہوا کہ ایک ٹی وی پروگرام ففٹی ففٹی کی طرح”تو چل میں آیا“ والی کیفیت ہو گئی۔ ففٹی ففٹی میں جو مزاح بنایا اور دکھایا گیا وہ یہ تھا کہ پویلین میں پیڈ کئے بلے باز سگریٹ کا دھواں اڑا رہا ہوتا ہے ادھر فیلڈ میں کھلاڑی آؤٹ ہو جاتا ہے تو پیولین والا سگریٹ ساتھی کو تھما کر یہ کہہ کر وکٹ پر جاتا ہے ”ذرا تھامنا،میں آ کر کش لگاتا ہوں“ یہی حال ہماری ٹیم کا ہے۔

میں اب پھر اصرار کرتا ہوں کہ یہ سب ایک سازش اور آمرانہ خود غرضی ہے۔اگر بابر اعظم اور رضوان جیسے کھلاڑیوں کو نکالنا مقصود تھا تو ان کو چنا ہی نہ جاتا اور اگر پسند کا سوال تھا تو پھر بابر اعظم کو دوبارہ کپتان بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ میں نے تو ماضی میں بابر کے لئے یہی تجویز دی تھی کہ وہ ازخود قیادت سے دستبردار ہو کر کھیل پر توجہ دے اور مزید عالمی ریکارڈ بنائے لیکن ہم نہ تو چیئرمین اور نہ ہی بورڈ کے مدارالمہام ہیں کہ ایسا کر پاتے، نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ شکست کی خفت تو تھی اب میچ فکسنگ کا برا تر الزام ہم نے خود اپنے سر لے لیا ہے۔

برطانوی فاسٹ باؤلر سٹیورٹ براڈ نے خوب کہا کہ نئے فاسٹ باؤلر کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں بہت ٹیلنٹ ہے۔ تو قارئین! میں شروع سے کہتا آیا ہوں کہ ہمیں کرکٹ اکیڈمی کو جدید انداز میں تبدیل کر کے ملکی کھلاڑیوں کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔بیٹرز کی تکنیک درست کرنا اور باؤلرز کو سپیڈ اور لینتھ کے حوالے سے تربیت دینا لازم ہے، بورڈ کو پرچی سسٹم سے باہر آنا ہو گا اور حقیقی میرٹ کو برقرار رکھنا ہو گا،بورڈ کے اندر میرٹ کیلئے پہلے عاقب جاوید سمیت ذمہ داروں کی صفائی کرنا ہو گی۔

(شان اور اذان ان سطور کے اختتام تک کریز پر ہیں)

قارئین! کا سوال ہے کہ سلمان علی آغا کے پاس وہ کون سی گیدڑ سنگھی ہے وہ بری طرح ناکامی کے باوجود ”باعزت“ ہے اور اسے پوچھا تک نہیں جا رہا۔