عالمی یوم خواندگی گزشتہ ہفتے پوری دنیا میں منایا گیا۔ پاکستان میں بھی سیمینار، ورکشاپس ہوئیں، خواندگی بڑھانے کے بلند بانگ دعوے ہوئے لیکن کیا خواندگی بڑھانے کے لیے اقدامات بھی تجویز کیے گئے کہ شرح خواندگی میں اضافہ کیسے ہوگا؟ ہم جو دنیا کی ساتویں اور 52 اسلامی ملکوں میں واحد ایٹمی طاقت ہیں، دنیا کی چھٹی بڑی مسلح افواج کے مالک اور دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہیں تو ہماری شرح خواندگی صرف 63 فیصد کیوں ہے؟ 1947 میں جب پاکستان بنا حالات واقعی برے تھے۔ شرح خواندگی صرف 15 فیصد تھی۔ تعلیمی ادارے بہت کم تھے۔ عمارتیں اور فرنیچر، کتب خانے اور لیبارٹریاں بھی کم تھیں۔ تعلیمی بجٹ بھی کم تھا اور اساتذہ کی بھی شدید کمی تھی۔ پورے پاکستان میں صرف ایک یونیورسٹی (پنجاب یونیورسٹی) تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے فوری طور پر قومی تعلیمی کانفرنس بلانے کی ہدایت کی۔ یہ کانفرنس پاکستان کے قیام کے صرف تین ماہ بعد 27 نومبر سے یکم دسمبر تک منعقد ہوئی جس میں قائداعظم کا یہ پیغام پڑھ کر سنایا گیا ” ہمیں ایک ایسی تعلیمی پالیسی وضع کرنی ہے جو ہمارے قومی مزاج، ہماری تاریخ، اسلامی ثقافت سے ہم آہنگ ہو اور اس کے ساتھ ہی جدید دور کی سائنسی ترقی کو بھی مد نظر رکھا جائے “۔ قائداعظم نے واضح کر دیا کہ ہم نے اپنے بچوں کو اسلامی تاریخ اور ثقافت، برصغیر کی مسلم تاریخ اور ثقافت کے بارے بتانا ہے۔ ہمارا قومی مزاج کیا ہونا چاہیے اور سب سے بڑی بات ہمیں سائنسی ترقی میں دنیا کے ساتھ مل کر چلنا ہے۔ یعنی بچوں کو جدید سائنس پڑھائی جائے۔ کانفرنس میں ابتدائی، ثانوی اور اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی تعلیم، مادری و قومی زبان کے نفاذ کے حوالے سے تجاویز اور سفارشات تیار کی گئیں۔ یعنی پاکستان بنتے ہی پہلے چار ماہ میں تعلیمی پالیسی بنانے کی بنیاد رکھ دی گئی۔ لیکن ہوا کیا 78 سال کے بعد بھی پاکستان کی 50 فیصد خواتین ناخواندہ ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد 1947 سے 1980 تک تعلیم بالغاں کے نام سے غیر رسمی بنیادی تعلیم کے مختلف منصوبوں پر عمل ہوتا رہا۔ لیکن بہتر منصوبہ غیر جماعتی اسمبلی کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے تیار کیا۔ یہ نئی روشنی سکول منصوبہ تھا۔ جس کے تحت تمام سرکاری اسکولوں کو شام میں پڑھائی کیلئے کھولا گیا۔ سکول نہ جانے والے بچوں اور بالغ افراد کو تعلیم دینا شروع کی گئی۔ پانچ سالہ کورس کو کامیابی سے مکمل کرنیوالوں کے لیے ملازمتوں کی پالیسی بھی بنائی گئی۔ لیکن بدقسمتی سے صرف تین سال بعد محمد خان جونیجو کی حکومت کو جنرل ضیاء الحق نے برطرف کر دیا۔ آنیوالی ن لیگی حکومتوں نے نئی روشنی سکول پالیسی کو آگے چلانا پسند نہیں کیا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں آئین پاکستان بنا تو اس میں یہ واضح لکھا گیا کہ بنیادی تعلیم (میٹرک تک) لازمی اور مفت مہیا کی جائے گی لیکن کیا آج آئین کے نفاذ کے 50 سال گزرنے کے بعد بھی پاکستان میں مفت تعلیم دی جا رہی ہے؟ کیا آج بھی والدین کو بچوں کی پڑھائی کیلئے ہر ماہ ہزاروں روپے ادا نہیں کرنے پڑتے؟ کیا آج بھی سرکاری اسکولوں کو ” غیر معیاری سکول ” نہیں کہا جاتا؟ کیا گلی محلے میں قائم ” دو نمبر انگریزی سکول سسٹم ” جہاں ایف اے اور بی اے پاس بچیاں یا بچے پڑھاتے ہیں کیا وہی ہمارے بچوں کا نصیب ہے؟ کیا غیر ملکی سکول سسٹم صرف امراء کے بچوں کے نصیب میں لکھا گیا ہے؟ جائز اورحلال کمائی والے والدین اپنے بچے کہاں پڑھائیں؟
آج پاکستانی وزراء بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پانچ سے 16 سال کی عمر کے ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکول نہیں جا رہے؟ پھر بھی دعوی ہے کہ خواندگی بڑھا رہے ہیں۔ دو سال قبل ہونے والی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق ہماری شرح خواندگی 63 فیصد، مردوں میں 68 فیصد اور خواتین میں 53 فیصد ہے (یعنی خواتین کی آدھی آبادی ناخواندہ ہے)۔ ہمارے ہاں 10 سال اور زائد عمر کے 10 کروڑ 41 لاکھ افراد ہی پڑھنا لکھنا جانتے ہیں (یعنی ہماری صرف 40 فیصد آبادی پڑھنا لکھنا جانتی ہے)۔ اسلام آباد میں خواندگی 88 فیصد، پنجاب 66 فیصد، سندھ 58 فیصد، خیبر پختون خوا 51 فیصد اور بلوچستان میں 42 فیصد ہے۔ ہمارے 36 فیصد بچے سکول جانے سے محروم ہیں۔ ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق پاکستان کے پانچ سے 16 سال عمر کے ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ جن میں پنجاب کے 96 لاکھ، سندھ کے 78 لاکھ، خیبر پختون خوا کے 49 لاکھ اور بلوچستان کے 50 لاکھ بچے شامل ہیں۔ یہ ہماری منتخب حکومتوں کے ادوار میں ترقی کا عالم ہے۔ بھارت کے حوالے سے ان کی ترقی یا بہتری کی مثال دینا اچھا نہیں لگتا لیکن سچ یہ ہے کہ بھارت کی ریاست کیرالہ میں شرح خواندگی 96.2 اور دہلی میں 88 فیصد ہے۔
بد قسمتی سے پاکستان میں تعلیم کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہی۔ ہم جی ڈی پی کا بمشکل دو فیصد بلکہ اس سے بھی کم تعلیم کیلئے بجٹ میں مختص کرتے ہیں۔ جہاں دو فیصد سے بھی کم تعلیم کیلئے رکھا جائے گا وہاں تعلیم اور کیسی ہوگی؟ پاکستان میں تعلیم کا سب سے بڑا مخالف سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختون خوا کا جاگیردار، وڈیرہ، زمیندار اور سردار ہے۔ اسے یہ گوارا نہیں کہ اس کے کمی، ملازم، ہاری، مزارع تعلیم حاصل کریں، پڑھ لکھ جائیں اور پھر اس کے کھیتوں میں کام کرنے کے لیے دستیاب نہ ہوں۔ یہ وہ سوچ ہے جس کی وجہ سے اشرافیہ نے عام آدمی کو تعلیم سے دور رکھنے کی حکومتی پالیسیاں بنائیں اور تعلیم کو ” نجی شعبے ” کے حوالے کر دیا، تاکہ وہ تعلیم مہنگی بیچ سکے۔پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے دشمنوں کی بھی کمی نہیں۔ انہیں یاد رکھنا چائیے آخری نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا ” علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے ” اور اس میں مرد و خواتیں کی تخصیص نہیں تھی۔ لیکن شاید یہ سب کچھ خواتیں کی تعلیم دشمنوں کی نظر سے نہیں گزرا۔
فافن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شرح خواندگی 63 فیصد، مالدیپ 98 فیصد، سری لنکا 93 فیصد، بھارت 87 فیصد، بنگلہ دیش 79 فیصد اور جنوبی ایشیا کی مجموعی خواندگی 78 فیصد ہے۔ ان حالات میں دنیا کا مقابلہ کیسے ہو سکے گا۔

