لاہور (خصوصی رپورٹ) سات ماہ کا محمد عون پیدائش سے ہی سنگین طبی پیچیدگیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ متعدد انفیکشنز، دماغ میں خون بہنے، سانس کی شدید تکالیف اور دماغ میں پانی جمع ہونے کے باعث اس کی زندگی مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ اہلِ خانہ اب اس کے خصوصی علاج کیلئےامریکا کے بوسٹن چلڈرنز اسپتال جانے کے خواہش مند ہیں اور مخیر افراد سے تعاون کی اپیل کر رہے ہیں۔
عون کی والدہ مریم راشد نے لاہور کے فاطمہ میموریل اسپتال میں مبینہ طبی غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ پیدائش کے بعد بچے کو سیریشیا مارسیسینس نامی جراثیم کا انفیکشن ہوا، جبکہ دماغ میں خون بہنے اور سر پر چوٹ آنے کی پیچیدگیاں بھی سامنے آئیں۔ بعد ازاں اسے کلیبسیلا نمونیا نامی جراثیم کا انفیکشن ہوا، سانس لینے میں شدید دشواری پیش آئی اور اس کا ایک پھیپھڑا بھی بیٹھ گیا۔
مریم راشد کے مطابق عون کو تقریباً 22 روز تک مصنوعی تنفس اور سی پَیپ پر رکھا گیا، جبکہ اسپتال میں تقریباً ایک ماہ قیام کے دوران اسے دل کی کمزوری سمیت دیگر طبی پیچیدگیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ گھر منتقل ہونے کے بعد بھی بچے کی مشکلات ختم نہ ہوئیں اور اسے بار بار وائرل انفیکشن، گلے اور سانس کی تکالیف اور خوراک نگلنے میں دشواری کا سامنا رہا۔ بعد ازاں ڈاکٹروں نے اسے نان کمیونیکیٹنگ ہائیڈروسیفالس کی تشخیص کی، جس میں دماغ کے اندر پانی جمع ہونے لگتا ہے۔ والدہ کے مطابق بچے کے جسم پر سوجن رہتی ہے اور اس کی ہڈیوں اور اعضا میں بھی غیر معمولی خم محسوس ہوتا ہے۔
سماجی خدمت کے شعبے سے وابستہ مریم راشد نے بتایا کہ اپنے بیٹے کی تکلیف کے بارے میں عوامی سطح پر بات کرنے اور سوشل میڈیا کے ذریعے مدد کی اپیل کرنے میں انہیں چار ماہ لگ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ساری زندگی دوسروں کی مدد کی، لیکن جب اپنے بچے پر مشکل وقت آیا تو وہ اپنا درد چھپاتی رہیں، جیسے یہ سب ان کی اپنی غلطی ہو۔
اہلِ خانہ عون کے علاج کیلئے بوسٹن چلڈرنز اسپتال میں اینڈوسکوپک تھرڈ وینٹریکولوسٹومی اور کورائیڈ پلیکسس کوٹری کے خصوصی طریقۂ علاج کی امید کر رہے ہیں۔ وہ بچوں کے معروف دماغی سرجن ڈاکٹر بینجمن سی وارْف سے بھی مشاورت کے خواہش مند ہیں، جو شیرخوار بچوں میں دماغ میں پانی جمع ہونے کے علاج کیلئے اس طریقۂ علاج پر کام کرنے والوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
مریم راشد کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کا بچہ محض مصنوعی طبی سہولیات کے سہارے زندہ رہے، بلکہ ان کی خواہش ہے کہ عون صحت مند زندگی گزارے، پروان چڑھے اور دوسرے بچوں کی طرح اپنے بچپن سے لطف اندوز ہو سکے۔
انہوں نے مخیر افراد، فلاحی اداروں اور کمیونٹی سے اپیل کی ہے کہ عون کے امریکا میں علاج کے لیے مالی اور دیگر تعاون فراہم کریں تاکہ اسے بوسٹن چلڈرنز اسپتال پہنچا کر خصوصی علاج ممکن بنایا جا سکے۔محمد عون کے علاج میں تعاون یا مزید معلومات کیلئےاس کی والدہ مریم راشد سے فون نمبر 03218857727 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

