پاکستانی پاکستان سے مایوس نہیں

واہگے سے گوادر تک ہر صبح ہمیں یقین دلاتی ہے کہ پاکستانی اکثریت حکمرانوں سے مایوس تو ہے پاکستان سے مایوس نہیں۔وہ ہر صبح پاکستان کے وسائل سے اپنے مسائل حل کرنے نکلتی ہے۔میں ان حوصلہ بخش مناظر کا عینی شاہد ہوں ۔ہمیشہ ان پاکستانیوں کا ہم وطن ہونے پر فخر محسوس کرتا ہوں ۔

وہ جو رات کو دیر تک جاگتے ہیں اور صبح دیکھتے ہی نہیں۔ اندھیروں کے دلدادہ کیا جانیں کہ عام پاکستانی اپنے مستقبل کے بارے میں کتنا پر اعتماد ہے اور آئندہ کیلئے کیا کیا منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اپنی اولادوں کو کس طرح آنے والی آزمائشوں کیلئے تیار کر رہا ہے ۔ہمیں مایوس کرنے والوں کا پاکستان تو اسلام آباد اور پنڈی تک محدود ہے۔ہم جو اپنی عمر گزار چکے عجیب کیفیت سے دوچار رہتے ہیں اپنی آخری عمر کو دنیا کی بھی آخری عمر سمجھ کر مایوسی کے پاتال میں گرجاتےہیں کہ دنیابھی ختم ہونے والی ہے۔ اپنے مٹتے ہوئے منظر کو جہان گزراں کا بھی فنا ہونا خیال کرتے ہیں ۔ناصر کاظمی یاد آتے ہیں

دل تو میرا اداس ہے ناصر ؔ
شہر کیوں سائیں سائیں کرتاہے

میں اسی اتھاہ مایوسی میں صبح جب اپنا گیٹ کھولتا ہوں تو گلی میں ایک چہل پہل نظر آتی ہے۔ کبھی ایک وین گزرتی ہے۔ یونیفارم میں بچیوں کو کسی مکتب کی طرف لے جاتی ہوئی۔ سامنے کے گھر کے دروازے پر ایک بچی بے تابی سے..ابو ابو.. پکار رہی ہوتی ہے۔ آجائیں سکول کو دیر ہو رہی ہے …دو تین نو عمر کمر پر بیگ لٹکائے ایک دوسرے سے سرگوشیوں میں مصروف تیزی سے قدم اٹھا رہے ہیں۔ ایک بائکیا ایک نوجوان کو منزل کی طرف لے جا رہا ہے ۔

یہ مناظر مجھے شرمندہ کر دیتے ہیں ۔میں جو رات سے سوچنے میں مبتلا ہوتا ہوں کہ ہمارے اینکر پرسن، مختلف چینلوں پر بیٹھے حکمران سیاست دانوں حزب مخالف کے رہنماؤں کو آپس میں لڑوا کر ایسا تاثر دے رہے ہوتے ہیں کہ بس ہم کبھی بھی آئینی بحران سے نکل نہیں سکیں گے ۔میری رات کروٹیں بدلتے گزرتی ہے سوچتا ہوں کہ گلیاں سونی ہو چکی ہوں گی۔ میرے ہم وطن گھروں کے دروازے بند کر کےتلملا رہے ہوں گے۔حقیقت اس کے برعکس ہے۔صبح سویرےسورج کے طلوع ہونے کے ساتھ ساتھ میرے ہم وطن بھی طلوع ہونے لگتے ہیں۔ میری مائیں، بہنیں ، بیٹیاں میرے بھائی، بیٹے سب امکانات کو تسخیر کرنے کے عزم کے ساتھ باہر نکلتے ہیں ۔دنیا تو انہی کے دم سے چل رہی ہے ۔اکثریت ہی ہر مملکت کو آباد رکھتی ہے ۔کسی بھی ملک کی چلتی مشینری کے اصل پرزے یہ کلرک، دکاندار، پلمبر، مزدو،ر مستری، صحافی، سیلز پرسن، بڑھئی، لوہار ہی ہوتے ہیں ۔صدیوں سے بستیاں انہی ہنرمندوں کی بدولت آگے بڑھتی رہی ہیں۔

جو ہم نہ ہوں تو زمانے کی سانس رک جائے
قتیل وقت کے سینے میں ہم دھڑکتے ہیں
اقلیت محلات پر ایوانوں پر قبضہ کر لیتی ہے ۔

کبھی بادشاہتیں کبھی نام نہاد جمہوریتیں کبھی فوجی حکومتیں۔ بس چند خاندان حاوی رہتے ہیں۔ انہیں یہ زعم ہوتا ہے کہ ملک وہ چلا رہے ہیں۔ حالانکہ وہ تو اپنے گھر، اپنی شوگر ملیں، اپنے ادارے ، اپنی آف شور کمپنیاں چلا رہے ہوتے ہیں۔ ملک تو ان خاک نشینوں کے دم سے چلتا ہے۔ چاہے انہیں کئی کئی نوکریاں کرنی پڑیں۔ انتہائی کرب میں زندگی گزارنی پڑے۔ ذرا سوچیے اس وقت ملک میں جتنے بھی عہدے دار ہیں صدر سے لے کر ایک عام فٹ کانسٹیبل تک کیا آپ کی ہماری زندگی میں ہمارے کروڑوں کے جیون میں ان کا کوئی مثبت دخل ہے۔ بلوچستان کے ایک ایک عام بندے سے۔ سندھ کے ایک ایک انسان سے۔ پنجاب کے لوگوں سے خیبر پختونخوا کےذی روحوں سے ۔گلگت بلتستان کے ناداروں سے ۔آزاد کشمیر کے پامالوں سے ان وفاقی، صوبائی حکمرانوں کی کوئی دلچسپی ہے ۔کبھی یہ سوچتے ہیں کہ یہ کروڑوں کیسے دن رات بسر کرتے ہیں۔ ان حکمرانوں کی زندگی تو خود بخود بڑی آسان بسر ہوتی رہتی ہے۔ زندگی باقاعدہ گزارنے کا جہاد تو اکثریت کر رہی ہے ۔

مجھے اپنی صحافتی زندگی میں پاکستان کے بڑے چھوٹے شہروں میں صبح دیکھنے کا اشتیاق رہا ہے اورہمیشہ صبح کے منظر سےولولہ تازہ پایا ہے۔ کبھی بلوچستان میں دور دراز نوشکی، لورالائی، قلات میں صبح سویرے دیکھا ہے کہ کس عزم سے یہ ہم وطن سرگرم ہوتے ہیں۔ دکانیں کھل رہی ہیں سوزوکیوں میں سبزیاں منڈی سے دکانوں میں منتقل ہو رہی ہیں۔ باہمت نوجوان کدال ہتھوڑا لیے فٹ پاتھ پر بیٹھے ہیں۔ یہی مناظر مجھے سندھ کے کراچی، لاڑکانہ، جیکب آباد، مورو، تھر میں دکھائی دیے ہیں ۔یہی میں نے مردان ،سوات ،چترال، پشاور میں مشاہدہ کیا ہے۔ پنجاب میں جھنگ، ملتان ،بہاولپور، جہلم، لاہور ،گجرات میں یہ محنت کش اسی ارادے کے ساتھ نظر آئے ہیں۔آزاد کشمیر میں مظفرآباد، میرپور، راولاکوٹ میں یہ بندگان خدا اپنے ماضی حال کو محفوظ کرتے مستقبل کیلئے تگ و دو کرتے دیکھے ہیں۔کسان منہ اندھیرے کھیتوں کا رخ کرتے ہیں۔ہماری اکثریت ایک مشکل ترین زندگی گزار رہی ہے۔ کیوں کہ اسے اپنی دھرتی سے عشق ہے۔ اسے اللہ تعالی سے امید ہے، اگر وہ مشکلات کا سامنا کرتے رہیں گے تو ایک صبح حسین ان کیلئے بشارت لے کر آئے گی۔

نئی ٹیکنالوجی آرہی ہے حکمرانوں نے تربیت کیلئے کوئی سہولت مہیا نہیں کی ہے۔ عام پاکستانی خود سیکھ رہے ہیں ۔موبائل فون سیٹ انہیں حکمران مفت فراہم نہیں کر رہے ہیں ۔پاکستانی جدید آلات کو سہولت کار سمجھتے ہیں۔ اسلئے اسکے اسرار و رموز سے خود ہی آشنا ہو رہے ہیں ملک میں روزگار کے وسیلے آ رہے ہیں۔ سفر کی سہولتیں ۔کرائے کی گاڑیاں۔ یہ نوجوان خود ہی انٹرنیٹ کا استعمال سیکھ رہے ہیں۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ نئے پیشے اختیار کر چکے ہیں۔ یوٹیوبر اتنی بڑی تعداد میں پاک سرزمین دکھا رہے ہیں۔ حکومت تو کبھی نہیں دکھاتی اور نہ ہی میڈیا۔پاکستانی خود کتنی نئی نئی ایجادات کر رہے ہیں۔ سمندری نمک سکھا رہے ہیں، برتن بنا رہے ہیں۔ بھیڑ بکریوں سے ملک کی معیشت چلا رہے ہیں ۔

ٹی وی ڈرامے ہوں، ٹاک شوز ،موسیقی کے کنسرٹ بڑے بڑے میلے سب کے ٹھیکے داروں کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے ۔عام پاکستانیوں کو بیوقوف بنانا ہے۔ ریاست کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ پوری نہیں کرتی ہے۔ جب انہیں کوئی فائدہ نہ ہو تو باہر جا کر بیٹھ جاتے ہیں اور جب مسند آراء ہوتے ہیں تو ملک کی فکر کرتے ہیں نہ عاقبت کی۔ چپکے چپکے باہر کی شہریت حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ امیر ملکوں میں رہنے کیلئے پیسہ جائز ناجائز اپنے ملک میں کما رہے ہوتے ہیں۔ یہ سب دیکھتے سنتے ہوئے عام پاکستانی چاہے وہ کسی صوبے میں بھی ہے، کوئی زبان بھی بولتا ہے وہ اپنے وطن سے مایوس نہیں ہے، وہ ہر صبح اسی عزم سے نکلتا ہے کہ مجھے اپنے شہر کو، اپنے ملک کو اپنے صوبے کو، آگے لے کر جانا ہے۔ عام پاکستانی پاکستان سے مایوس نہیں ہے۔ البتہ پاکستانی حکمرانوں سے دل برداشتہ ضرور ہے۔