ڈڈیال (نمائندہ خصوصی+نامہ نگار) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو وفاقی کابینہ سے نکالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر وزیر دفاع کا بیان اگر وفاقی حکومت کی پالیسی نہیں تو وزیراعظم شہباز شریف اس پر وضاحت کریں۔
ڈڈیال میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں احتجاج کرنے والوں سے غلطی ہوئی ہوگی، لیکن اس کی سزا پورے کشمیر کو نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جس نے قانون توڑا ہے اسے گرفتار کرکے سزا دی جائے، چند افراد کی غلطی کا بوجھ پوری عوام پر ڈالنا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں اور حکومت دونوں سے اپیل ہے کہ عام کشمیریوں کو مشکلات سے بچایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ریاست پاکستان آبنائے ہرمز کھلوانے میں کردار ادا کر سکتی ہے تو کشمیر کے راستے بھی کھلوائے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر کی تاریخ کے یہ اہم ترین انتخابات ہیں اور یہ ریاست پاکستان کے لیے بھی ایک امتحان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کا فرض ہے کہ وہ عوام اور وفاق کے درمیان فاصلے کم کریں اور کشمیری عوام کی آواز اسلام آباد تک پہنچائیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کشمیری عوام پیپلز پارٹی پر اعتماد کریں گے تو وہ ان کی آواز بنیں گے، کیونکہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں جو سیاسی اور پرامن طریقے سے حل نہ ہو سکتا ہو۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہر کشمیری اور ہر پاکستانی پریشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے سکھایا تھا کہ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا، اس لیے کشمیری عوام کے تمام مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ احتجاج کرنے والوں نے انہیں خط لکھا تھا، جس پر انہوں نے ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ کمیشن قائم ہو جائے تو وہ احتجاج کرنے والوں سے بھی احتجاج ختم کرنے کی درخواست کریں گے، تاہم ابھی تک ان کی تجویز پر کوئی جواب نہیں ملا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ احتجاج کے ایسے طریقے جن سے خوراک اور ضروری اشیاء کی ترسیل متاثر ہو، اس کا نقصان عام عوام کو پہنچتا ہے، جبکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اپنی رٹ بھی برقرار رکھے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک مجوزہ کمیشن اپنی تحقیقات مکمل نہیں کر لیتا، دونوں فریق کشمیری عوام کو ریلیف دیں تاکہ کاروبار اور معمولات زندگی متاثر نہ ہوں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ حقِ ملکیت، حقِ حکمرانی اور حقِ روزگار ان کی جماعت کے منشور کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیر خارجہ انہوں نے دنیا بھر میں کشمیری عوام کا مقدمہ پیش کیا اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو “گجرات کا قصائی” قرار دیا، جس پر بھارت نے ان کے سر کی قیمت مقرر کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی تین نسلوں سے عوام کے حقوق کی جدوجہد کر رہی ہے اور گلگت بلتستان و آزاد کشمیر کے عوام کو بھی ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دلانے کے لیے پرعزم ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو واضح کرنا چاہیے کہ آیا وزیر دفاع خواجہ آصف کا کشمیر سے متعلق بیان وفاقی حکومت کی پالیسی ہے یا نہیں۔
انہوں نے ایک وفاقی وزیر کے اس بیان پر بھی تنقید کی کہ “کشمیر کی 12 نشستیں ہماری جیب میں ہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بیان کو 30 روز گزرنے کے باوجود متعلقہ وزیر اپنے عہدے پر موجود ہیں، اگر کوئی کشمیریوں کے حقِ رائے دہی کا احترام نہیں کرتا تو اسے وزارت پر رہنے کا حق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کا فیصلہ کسی کی جیب میں نہیں بلکہ کشمیر کے نوجوانوں اور عوام کے ہاتھ میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر اور مہاجرین کی نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے بعد آئینی کنونشن بلایا جائے گا، جس میں عوام کی تجاویز کی روشنی میں آئینی اصلاحات کی جائیں گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دیں گے اور باقی ماندہ حقوق بھی انہیں دلوائے جائیں گے۔

