بیوروکریسی کا نام سنتے ہی لوگ اچھے اور برے تبصرے کرتے ہیں ،کچھ لوگوں کے خیال میں اس نے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کیا جبکہ بعض سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں خرابیوں کی جڑ ہماری بیوروکریسی ہے، ملکی بیوروکریسی وفاقی ہو یا صوبائی، اعلیٰ تعلیم کے حامل اور تربیت یافتہ افراد پر مشتمل ہے،قیام پاکستان کے فوری بعد اسی بیو روکریسی نے وہ کار ہائے نمایاں انجام دیے، کہ نو آزاد ملک مختصر وقت میں ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا،جس کے بعد محلاتی سازشوں کا دور شروع ہواء تو قوانین اور کاکر دگی پس پشت ڈال دی گئی اور پسند نا پسند کا سلسلہ شروع ہو گیا قواعد پر زبانی احکامات کو ترجیح دی جانے لگی ،کسی بھی حکمران نے قواعد کو اہمیت نہ دی بلکہ اپنی ہی متعارف کردہ اصلاحات پر بھی عملدرآمدسے دانستہ گریز کیا گیا،نتیجے میں معاملات سدھرنے کی بجائے بگڑتے گئے۔
بیوروکریسی دراصل وہ انتظامیہ ہوتی ہے جو امور مملکت کو حکومتی پالیسیوں اور قوانین کے تحت چلاتی ہے،عوامی مسائل کے حل، خوشحالی کیلئے کام کرتی اور نظم و نسق قائم رکھتی ہے،موجودہ بیوروکریسی دراصل انگریز دور کا تسلسل ہے،برطانوی حکومت کے فیصلوں پر عمل درآمد کرانا اس کا کام تھا،مگر انگریز کی نگرانی اور قوانین کی حکمرانی بہت سخت تھی ،اسی بیوروکریسی نے قیام پاکستان کے بعد سے 1958ء تک ملک کو ترقی کی ڈگر پر ڈالا،اسی طرح دنیا بھر میں پالیسی سازی اور عملدرآمد کے معاملہ میں بیوروکریسی کا اہم کردار ہوتا ہے اور اسے تسلیم بھی کیا جاتا ہے،لیکن تیسری دنیا کی جمہوریت میںآہستہ آہستہ بیوروکریسی کو نا پسندیدہ عنصر اور ذاتی ملازم بنا دیا گیا،حکمران جماعت نے ہمیشہ من مانی کی،سب سے زیادہ نقصان یہ ہواء کہ قوانین کی اہمیت ثانوی ہو گئی،لہذٰا سمجھا جانے لگا کہ بیوروکریسی کی سوچ عوامی نہیں اور وہ عوامی مسائل کا بہتر حل نہیں دے سکتی،نتیجے میں قانون سازوںنے تمام اختیارات کا مرکز اپنی ذات کو بنا لیا،بیوروکریسی دوسرے درجے کی شہری بنا دی گئی،اس صورتحال میںبیوروکریسی پر نا اہلی،بد عنوانی،قانون شکنی کاالزام نہیں دھرا جا سکتا،بلکہ تمام صورتحال کی ذمہ دار حکومتیں ہیں،اگر چہ بیوروکریسی میں بھی خامیاں موجود ہیں اور ان کو درست کرنے کی ضرورت ہے،مگر اس کیلئے قواعد پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہو گا۔
ہر حکومت نے بیوروکریسی کی اصلاحات کے نام پر اس کی ڈوریاں کھینچنے کی کوشش کی،1949ء میں پے اینڈ سروس کمیشن رپورٹ، 1973ء میں انتظامی اصلاحات کمیٹی رپورٹ پیش ہوئی اس دوران چار مرتبہ حکومت کو ری آرگنائز کرنے کی کوشش کی گئی،بھٹو نے سول بیوروکریسی خاص طور پر سول سروس کو بے اختیار کر کے 1300افسر کرپشن کے الزام میں برطرف کر دئیے،ان اصلاحات کی وجہ سے سروسز کا نظام برباد ہو گیا،ڈی ایم جی افسروں کو سول سرونٹ کا درجہ دیکر آئینی تحفظ دیا گیا،اس سے قبل سی ایس پی افسر با اختیار تھے مگر ان کو بھی سیاسی بنا دیا گیا،بیوروکریسی کو محکمانہ خود مختاری کے تحت کام کرنے سے روک دیا گیا،ترقی،تبادلے،تعیناتی کے اختیارات بھی صلب کر لیے گئے،یہ دراصل بیوروکریسی کو ریاست کی ملازمت سے نکال کر حکومت کا خدمت گار بنانے کی ایک کوشش تھی، جس کے بعد بیوروکریسی سول سرونٹ سے گورنمنٹ سرونٹ بن گئی، جنرل مشرف نے جنرل نقوی کے ذریعے بیوروکریسی کے پر کاٹنے کی کوشش کی ، اب ترقی تبادلے پوسٹنگ کیلئے اصول قانون کار کردگی نہیں بلکہ سیاسی پشت پناہی ہے۔حکومت تب تک بہترین انداز سے عوامی اور ملکی خدمت کرتی رہی جب تک بیوروکریسی با اختیار تھی،اب بھی اگر حکومت کو ڈیلیور کرنا ہے،اپنے منشور کے مطابق عوام کو سہولیات دینا ہیں،عوام کو فوری انصاف اور مسائل کا حل تلاش کرنا ہے تو بیوروکریسی کو با اختیار بنانا ہو گا،اصلاحات ضرور کریں مگر یہ اصلاحات بیوروکریسی کو کنٹرول کرنے کی بجائے ان کی کارکردگی بہتر بنانے، اختیارات سے تجاوز روکنے،بد عنوانی کے خاتمے کیلئے ہونی چاہئیں۔
پاکستان کی سیاست اور سیاستدانوں میں ایک روایت برسوں سے چلی آ رہی ہے کہ جب بھی انہیں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو الزام تراشی کا سب سے آسان ہدف ،اپوزیشن اور بیوروکریسی کو بنا لیا جاتا ہے، کچھ عرصہ قبل دفاعی وزیر خواجہ آصف نے بیان دیا کہ ’’پاکستان کی نصف سے زیادہ بیوروکریسی نے پرتگال میں جائیدادیں خرید لی ہیں اور وہاں شہریت کے حصول کی تیاری کر رہی ہے‘‘۔ یہ الزام میڈیا کی زینت بنا اور عام عوام کے ذہنوں میں ایک بار پھر بیوروکریسی کو کرپشن اور بیرونِ ملک جائیدادوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ الزام حقیقت پر مبنی ہے؟
دوسری طرف پاکستانی سیاستدانوں کے اثاثوں کا جائزہ لیا جائے تو حقیقت بالکل برعکس نظر آتی ہے،برطانیہ میں کتنے ہی پاکستانی سیاستدانوں کے محلات اور فلیٹ موجود ہیں، لندن کے مہنگے ترین علاقوں میں سیاستدانوں کی جائیدادیں ایک کھلا راز ہیں،متحدہ عرب امارات کے دبئی اور ابوظہبی میں کتنے ہی سیاستدانوں کے ٹاورز، اپارٹمنٹس اور شاپنگ مالز ہیں جن کی قیمتیں اربوں روپے ہیں،امریکہ اور کینیڈا میں شہریت حاصل کرنا تو پاکستانی سیاستدانوں کا پرانا شوق ہے، کئی سیاستدان اپنی فیملیز کو تعلیم اور کاروبار کے نام پر وہاں سیٹل کر چکے ہیں،یہاں تک کہ کچھ سیاستدانوں نے تو سائپرس، مالٹا اور ترکی کے ’’گولڈن ویزا پروگرام‘‘ کے ذریعے یورپی یونین کی شہریت حاصل کی تاکہ اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکیں۔
ذرا سوچیں تو آج پاکستان کے ہسپتال، تعلیمی ادارے، عدالتیں، ترقیاتی منصوبے اور ریونیو کا نظام کسی حد تک بھی قائم ہے تو وہ بیوروکریسی کے ہی مرہونِ منت ہیں،پاکستان کے کئی سینئر بیوروکریٹس نے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی وقت ملک کی خدمت میں صرف کیا، کئی افسروں کو سیاسی دباؤ کے باوجود ایمانداری کے ساتھ کام کرنے پر معطل، ٹرانسفر ،او ایس ڈی یا دوسری انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا،یہ کیسا سسٹم ہے کہ ایک طرف بیوروکریسی ملکی نظام کو سنبھالے رکھے اور دوسری طرف الزام تراشی کی زد میں رہے؟
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں درجنوں مثالیں موجود ہیں جب حکمران خاندان اقتدار سے محروم ہوتے ہی بیرونِ ملک جا بسے، کبھی لندن، کبھی جدہ اور کبھی دبئی میں سیاسی پناہ لی گئی،جہاں تک پرتگال میں بیوروکریسی کی جائیدادوں کا سوال ہے تو وہ بھی کوئی دودھ کے دھلے ہوئے تو نہیں ؟ مگر ابھی تک کوئی سرکاری فہرست یا ثبوت سامنے نہیں آیا، اگر واقعی بیوروکریسی وہاں جائیدادیں خرید رہی ہوتی تو اس کی خبریں عالمی میڈیا اور یورپی یونین کے ریکارڈ میں بھی ضرور سامنے آتیں،دوسری طرف جب بھی مہنگائی، بیروزگاری یا گورننس پر سوال اٹھتا ہے تو کوئی نہ کوئی بیان سامنے آ جاتا ہے کہ بیوروکریٹس کرپٹ ہیں ،انہوں نے باہر جائیدادیں بنا لی ہیں۔پاکستان کی بیوروکریسی میں خامیاں ضرور موجود ہیں، مگر یہ آج بھی اس ملک کے نظام کو سنبھالنے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے، اگر کچھ افسران واقعی بدعنوانی میں ملوث ہیں تو اس کا ذمہ دار بھی وہی سیاسی نظام ہے جو میرٹ کے بجائے سفارش اور ذاتی تعلقات کی بنیاد پر افسران کو عہدوں پر تعینات کرتا ہے، ورنہ عوام یہ سوال پوچھتے رہیں گے کہ اگر بیوروکریٹس کی جائیدادیں پرتگال میں ہیں ،وہ کرپٹ ہیں تو اور کس کس کی جائیدادیں، کہاں کہاں ہیں؟اور کون کون کرپٹ ہے؟

