اسلام آباد / بیجنگ(ڈاکٹر فیصل سعید)پاکستان اور چین کے درمیان سٹرٹیجک تعاون میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت چین کے خلائی پروگرام کیلئے دو پاکستانی خلا بازوں محمد ذیشان علی اور خرم داؤد کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔
یہ خلا باز چینی خلائی اسٹیشن تیانگونگ خلائی اسٹیشن کے آئندہ مشن کیلئے تیار کیے جائیں گے، جہاں ان میں سے ایک کو خلا میں جانے والے پہلے غیر ملکی خلا باز ہونے کا اعزاز مل سکتا ہے۔
دونوں امیدواروں کو ابتدائی طور پر بیک اپ خلا بازوں کے طور پر تربیت دی جائے گی، تاکہ مستقبل میں وہ بطور پے لوڈ اسپیشلسٹ خدمات انجام دے سکیں۔ پے لوڈ اسپیشلسٹ وہ ماہر ہوتا ہے جو خلائی مشن کے دوران مخصوص سائنسی تجربات، تکنیکی آلات اور تحقیقی سرگرمیوں کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔
سائنسی ماہرین کے مطابق اس کردار میں شامل افراد عام طور پر پیشہ ور خلا باز نہیں ہوتے بلکہ سائنسدان، انجینئر یا ڈاکٹر ہوتے ہیں، جنہیں مخصوص مشن کیلئےخصوصی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ خلاء میں طبی، حیاتیاتی اور مادی علوم سے متعلق تجربات انجام دے سکیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں خلا بازوں کا انتخاب سپارکو اور چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی نے مشترکہ طور پر سخت جانچ اور تربیتی مراحل کے بعد کیا۔ یہ پیش رفت فروری 2025 میں طے پانے والے خلائی تعاون کے معاہدے کا تسلسل ہے۔
رپورٹس کے مطابق تربیت مکمل ہونے کے بعد ان میں سے ایک خلا باز کو باضابطہ طور پر خلائی مشن میں شامل کیا جائے گا، جو چین کے خلائی اسٹیشن تک رسائی حاصل کرنے والا پہلا غیر ملکی فرد بن سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاک چین “فولادی دوستی” کی عملی مثال ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اپنی خلائی کامیابیوں کو قریبی شراکت دار ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کا خواہاں ہے۔
یہ پروگرام 2025 سے 2029 تک کے پانچ سالہ خلائی تعاون منصوبے کا حصہ ہے، جس میں خلا بازوں کی تربیت، چاند پر مشترکہ تحقیق اور جدید خلائی ٹیکنالوجی کی ترقی جیسے اہم اہداف شامل ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مشن پاکستان کے خلائی پروگرام کیلئےسنگ میل ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے نہ صرف سائنسی تحقیق کو فروغ ملے گا بلکہ خطے میں ٹیکنالوجی اور دفاعی تعاون بھی مزید مضبوط ہوگا۔

