میری ہی نہیں پوری دنیا کے انسانوں کی یہ خواہش ہے کہ ہر طرف امن ہو، موسم ٹھیک ہو جائیں، پھر سے وہ زمانے لوٹ آئیں جب باغوں میں جھولے پڑتے اور ہم لاہور والے مقبرہ جہانگیر میں جا کر ساون مناتے تھے۔ وہ بھی کیا زمانے تھے، بے شک بڑی بڑی گاڑیاں نہیں تھیں اور جن حضرات کے پاس مورس مائیز اور شیورلیٹ ہوتی وہ امیر کہلاتے تھے۔ ہم لاہور والوں کی بڑی خوبی تانگہ اور جتا ہوا چُست گھوڑا ہوتا تھا۔ ساون کا انتظار ہوتا کہ ساون رت بڑی دلپذیرہوتی تھی اور پھر یہی وہ موسم ہے جس میں پھلوں کے بادشاہ آم کی بہار بھی آتی۔ لاہوری بڑے شوق سے آم کھاتے تھے۔میرے والد صاحب ہفتے میں ایک بار بکرے کے سری پائے یا پھر گائے کی بونگ لاتے، مٹی کی ہانڈی میں رات بھر ہلکی آنچ پر پکائے جاتے اور اس عرصہ میں آموں کا ٹوکرا (تب پیٹیوں کا رواج نہیں تھا) بھی آ جاتا جو ایک بڑے ٹب میں ڈال کربرف والے پانی میں ڈبو دیئے جاتے صبح کو سب گھر والے اس ٹب کے اردگرد اکٹھے ہوتے اور پھر مل کر آم چوستے اور ناشتہ کرتے۔ اس محفل اور ناشتے کا جو مزہ تھا وہ آج بھی یہ سطور لکھتے وقت میرے منہ میں پانی لا رہا ہے اسی طرح ہم لاہوریوں کی بڑی تفریح دریا پار مقبرہ جہانگیر میں دعوت ہوتی اکثر چھٹی کے روز بادل چھا جاتے اور ہلکی یا درمیانہ درجہ کی بارش ہوتی شہری آم اور جامن لے کر مقبرہ جہانگیر پہنچ جاتے۔ بعض حضرات گھر سے گوشت کے دیگچے پکا کر لاتے اور کچھ لوگ وہیں پکاتے تھے۔ہلکی تیز بارش، بھنا گوشت، بریانی اور قیمے والے نان سماں باندھتے اور ایسے میں آم چوسنے کا جو لطف ہوتا وہ اپنی شان آپ ہی تھا، ہم نوجوان خوب بھاگتے، دوڑتے، کھیلتے اور کھانا ہضم بھی کرلیتے تھے۔ والدین کی خصوصی ہدایت یہ ہوتی کہ آم چوسنے اور کھانے کے بعد جامن ضروری ہیں اور یوں ساون کی گھٹاؤں سے لبریز دن تفریح میں گزرجاتا۔
اب تو اس دور کی یاد ہی رہ گئی کہ نہ تو ویسا ساون اور موسم ملتا ہے اور نہ ہی اب وہ میلے ٹھیلے رہے کہ مقبرہ جہانگیر میں اب ایسی دعوتوں کی اجازت نہیں اور نہ ہی مارچ کے آخری ہفتے میں عرس مادھو لال حسین (میلہ چراغاں) کے موقع پر ماضی کی طرح رات گزارنے اور کھانے پکانے کی اجازت ہے کہ شالیمار باغ کے تحفظ کا بھی سوال ہے البتہ اب ٹکٹ لے کرباغ میں تفریح کی اجازت ہوتی ہے۔
یہ سب ماضی ہے جو بڑا ہی خوشگوار تھا۔ بڑی بڑی بلڈنگیں اور پلازہ نہیں تھے۔رنگ برنگی اور کروڑوں روپے والی کاریں بھی نہیں تھیں لیکن موسم ہی نہیں عوامی مزاج بھی درست تھے محلے داریاں تھیں، دوستیاں بنتی تھیں اور محبت و یگانگت تھی۔ یہ نہیں کہ تب راوی مکمل طور پر چین لکھتا تھا، تب بھی جھگڑے ہوتے لیکن بات نہ بڑھنے دی جاتی اور صلح بھی کرا دی جاتی۔ مجھے یاد ہے کہ جب کبھی مشرقی افق پر بادلوں میں سرخی نمایاں ہوتی تو میری دادی جان اور بزرگ دیکھ کر کہتے کہیں قتل ہو گیا ہے اور پھر کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کرتے اور اللہ سے پناہ مانگتے تھے۔
یاد ماضی عذاب ہے یا رب، آج یہ سب کیوں یاد آیا کہ اب نہ تو وہ رت رہی، نہ وہ تعلق اور محبتیں ہیں، ذرا ذرا سی بات پر قتل ہوجاتے ہیں، موسم ہیں تو اس کے مزاج ہی تبدیل ہو گئے ہیں۔کچھ پتہ نہیں چلتا کہ دھوپ ہے تو کب اور کس وقت بارش آ جائے گی اور چھما چھم برس کر پھر سے دھوپ،اب تو بہار اور ساون ایسے گڈمڈ ہوئے کہ ہم ساون بھول ہی گئے ہیں، تو محکمہ موسمیات کے خبرنامے پر نظر رہتی ہے جو پری مون سون اور مون سون کی خبر دیتا ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں کہ ساون یا مون سون سے پہلے ہی حبس کا عالم شروع ہو جاتا ہے۔ پری مون سون یا اس کے بعد مون سون میں ہونے والی بارش سکھ نہیں دکھ دیتی کہ حبس بہت زیادہ ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اب پنکھے بھی پسینہ خشک نہیں کر پاتے۔ ایئر کنڈیشنر والے حضرات مستفید تو ہوتے ہیں لیکن ہر ما ہ کے اوائل میں ان کی چیخیں اور سسکیاں بھی ساتھ ساتھ ابھرتی ہیں کہ بجلی کے نرخ اور سلیب کا طریق کار ہاتھ پاؤں پھلا دینے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ صارفین چیخ رہے، پکار رہے ہیں کہ یہ 200اور 201والا چکر تو ختم کر دیں ایک نرخ زیادہ اور پھر دو سو یونٹ کے بعد اگر ایک یونٹ بھی زیادہ ہو تو بل دوگنا سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ اس طریقہ کی ایجاد والے اور اقتدار پر متمکن حضرات کوعوامی تکلیف کا احساس ہی نہیں کہ ان کو رعائت ہے اور اثر نہیں ہوتا اسی لئے تو سخت گرمی میں بھی گرم سوٹ پہنے رہتے ہیں،جیسے یہی قومی لباس ہو۔
یہ مہینہ صفر المظفر کا ہے اور چند روز بعد ہی وہ مبارک مہینہ شروع ہونے والا ہے جو پوری کائنات کے لئے باعث برکت ہے کہ اسی ماہ مبارک میں نبی آخر الزمان رسول اکرم حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم دنیا میں رحمت بن کر تشریف لائے اور ہم سب آمد رسولؐ کی خوشیاں منائیں گے۔ نبی اکرمؐ ہدایات کا تحفہ لائے اور قرآن مجید،فرقان حمید کی صورت میں ہمارے پاس خزینہ ہے۔ ہدائت کے مطابق اس پر عمل سے دنیا اور آخرت سنور جاتی ہے لیکن دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ اس پر عمل نہیں ہوتا، دنیا بھر میں آج مسلمان مال و دولت کے حوالے سے سرخرو ہیں، لیکن فرامین کے مطابق ان میں روح اسلامی نہیں رہی، ریت سے سیال سونا تو اگلا، یہ امیر تر ہو گئے آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتیں بھی بن گئیں اور بن رہی ہیں، لمبی لمبی کاریں اور آرام دہ ہوائی جہاز مل گئے ہیں، جھونپڑی کا تصور ختم اور سینکڑوں ایکڑ پر مشتمل محل بھی بن گئے لیکن روح جلالی نہیں رہی، آج کے دور میں دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے سائنس کے حوالے سے بہت دلائل ہیں اور ہوں گے لیکن ہم کو یاد رکھنا چاہیے کہ غیر یقینی موسمی حالات، طوفان، درجہ حرارت میں اضافہ اور عالمی بے چینی کے حوالے سے ہم مسلمانوں کو دور نبوتؐ ہی میں آگاہ کر دیا گیا تھا کہ ہمارے اعمال ایسے ہوں گے تو حالات بھی ویسے حوں گے، آج دنیاوی جاہ و حشمت کے باوجود مسلمان ممالک کے اندر وہ روح ہلالی اور عمرانی، جلالی نہیں رہی، اس وقت امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیل ے مل کر تگنی کا ناچ نچا رکھا ہے اور ان کو روکنے والا کوئی نہیں، ایران ڈٹا توہوا ہے لیکن وہ نہ صرف اکیلا ہے بلکہ دنیاوی طاقت کے لحاظ سے برابر کا مقابلہ بھی نہیں اور پھر اب تو امریکی صدر ٹرمپ نے دبے الفاظ میں ہیروشیما اور ناگاساکی کی یاد بھی دلا دی کہ اگر ایران نے ڈیل (معاہدہ) نہ کی تو وہ بھرپور طاقت سے حملہ کرکے ایران کو تباہ کر دیں گے، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان یہ گٹھ جوڑ بھی نشانیوں ہی میں سے ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ٹرمپ جو کہتا ہے اس کے دل میں نہیں ہوتا اور وہ اسرائیل کی زبان بولتا اور حمائت کرتا ہے۔
اسے کیا کہیں، ہم خود اپنے اندر غور کرکے دیکھ لیں گریبان میں جھانک لیں کہ ہم جو ایٹمی طاقت (اللہ کے فضل سے) ہیں۔ ہمارے لچھن کیا ہیں ملک کے اندر بے چینی، مہنگائی، بے روزگاری، امن و امان خراب اور قرض کی پی کر رنگ لانے کی باتیں کرتے ہیں۔ ہم پاکستانی اور مسلمان ہونے پر فخر اور اس کا اعلان کرتے ہیں، حالت یہ ہے کہ ایک دوسرے سے مخلص نہیں ہیں، دوست بن کر چھرے گھونپتے ہیں، ہم بھی عاقبت اور تعلیمات نبویؐ کو بھول چکے آنے والے ماہ مبارک کی بدولت اور حضورؐ کی آمد کے حوالے سے میری یہ خواہش ہے کہ سب ٹھیک ہو جائے۔ پھر سے امن چین والا دور آ جائے۔ خوشحالی ہو اور محبت و پیار کا دور دور ہو جائے۔ مسلمانو! اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم آمد مصطفےٰؐ کے صدقے توبہ کریں سچے دل سے معافی مانگیں تو یقینا اللہ رحم کر دے گا، ورنہ انجام تو سامنے ہے۔

