واشنگٹن(وال اسٹریٹ جرنل، رائٹرز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت پر وسیع پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مجوزہ پابندیوں کے تحت 6 سے 7 ماہ کی مہلت کے بعد عالمی فوجداری عدالت کے ساتھ زیادہ تر مالی لین دین پر پابندی عائد کردی جائے گی۔
رائٹرز کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام اور اس کی نظر سے گزرنے والی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ رپورٹ دی ہے، تاہم رائٹرز فوری طور پر ان تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ پابندیاں عالمی فوجداری عدالت کے ساتھ امریکی شہریوں اور اداروں کے مالی لین دین کو خصوصی اجازت کے بغیر روکنے کا باعث بن سکتی ہیں۔
عالمی فوجداری عدالت نے غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے مقدمے میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے، جس کے بعد امریکا اور عدالت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
امریکا پہلے ہی عالمی فوجداری عدالت کے بعض عہدیداروں کے خلاف پابندیاں عائد کرچکا ہے، تاہم پوری عدالت کو ہدف بنانے کی یہ مجوزہ کارروائی اس سے کہیں وسیع ہوگی۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق عالمی فوجداری عدالت سے متعلق پابندیوں کا موجودہ امریکی پروگرام بھی نافذ ہے۔

