بدقسمت خیبر پختونخوا مسلسل دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے۔ کہیں پولیس اہلکار نشانہ بن رہے ہیں، کہیں فوجی جوان اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں اور کہیں عام شہری مسجدوں، بازاروں اور چوک چوراہوں میں شہید ہو رہے ہیں۔ ایک ہیجانی کیفیت ہے اور لوگ خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دہشت گردی اب محض چند سرحدی علاقوں تک محدود مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات صوبے کے مختلف حصوں میں پھیل چکے ہیں۔ ایسے حالات میں کسی بھی حکومت کی پہلی اور سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ ریاست کی رِٹ قائم کرے، شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر ممکن سیاسی، انتظامی اور مالی مدد فراہم کرے۔
لیکن بدقسمتی سے خیبر پختونخوا کا موجودہ سیاسی المیہ یہ ہے کہ یہاں حکومت کرنے اور اپوزیشن کرنے کے درمیان فرق مٹ چکا ہے۔ صوبائی حکومت کے پاس اختیار بھی ہے، وسائل بھی، انتظامیہ بھی، پولیس بھی اور ایک واضح آئینی ذمہ داری بھی، مگر اس کے باوجود اس کی سیاست کا بڑا حصہ احتجاج، محاذ آرائی، سیاسی نعروں اور عمران خان کی رہائی کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ ایک سیاسی اور قانونی معاملہ ہو سکتا ہے، اور ان کے کارکنوں کو اپنے قائد کے حق میں پُرامن جدوجہد کا مکمل حق حاصل ہے، مگر ایک منتخب صوبائی حکومت کی ذمہ داری اس سے کہیں وسیع ہوتی ہے۔ حکومت کسی ایک رہنما، جماعت یا سیاسی تحریک کے لیے نہیں بلکہ پورے صوبے کے لیے ہوتی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان مکمل اعتماد، مسلسل رابطہ اور عملی تعاون ناگزیر ہے۔ پولیس صوبے کے پاس ہے، سرحدی سلامتی اور کئی بڑے سکیورٹی معاملات وفاقی اداروں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں، لیکن انٹیلی جنس اور انسدادِ دہشت گردی کی کوششیں مختلف وفاقی اور صوبائی اداروں کے باہمی اشتراک کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ ایسے میں اگر کوئی صوبائی حکومت سیاسی دشمن کی طرح وفاق سے برسرِ پیکار رہے، اس پر عدم اعتماد کرے یا قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی تنازعات کے ساتھ جوڑ دے تو اس کا فائدہ صرف ان عناصر کو پہنچتا ہے جو ریاست کی کمزوری اور تقسیم سے طاقت حاصل کرتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی مثال اس وقت خیبر پختونخوا کی افسوس ناک صورتِ حال ہے۔
یہاں اصل مسئلہ اختلاف کا نہیں، ترجیحات کا ہے۔ ایک صوبائی حکومت وفاق کی پالیسیوں سے اختلاف کر سکتی ہے، ریاستی اداروں یا ان کی قیادت کے کردار پر سوال بھی اٹھا سکتی ہے اور آئینی حدود کے اندر سخت سیاسی مؤقف بھی اختیار کر سکتی ہے۔ لیکن جب صوبہ دہشت گردی کی زد میں ہو تو سیاسی اختلاف اور عملی تعاون کو الگ رکھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ کسی سیاسی رہنما کے مقدمات، گرفتاری یا رہائی کے مسئلے کو سکیورٹی تعاون کے ساتھ جوڑ دینا ایک خطرناک طرزِ سیاست ہے، کیونکہ دہشت گرد نہ سیاسی جماعتوں کے اختلافات دیکھتے ہیں، نہ عدالتی مقدمات اور نہ اقتدار کی کشمکش۔ وہ صرف ریاست کی کمزوری تلاش کرتے ہیں۔
افغانستان کا معاملہ بھی اسی تصویر کا ایک اہم حصہ ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر مسلح گروہ افغان سرزمین سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور اس حوالے سے متعدد شواہد بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند نیٹ ورکس پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہیں۔ ایسے ماحول میں خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت سے اگر مگر کے بجائے ایک نہایت واضح اور غیر مبہم مؤقف کی توقع کی جاتی ہے۔ مذاکرات کی حمایت کی جا سکتی ہے، سفارت کاری کی وکالت کی جا سکتی ہے اور فوجی کارروائی کو آخری حل سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی اتنی ہی واضح ہونی چاہیے کہ پاکستان کے شہریوں، پولیس اہلکاروں اور فوجیوں پر حملہ کرنے والوں کے لیے کسی قسم کی سیاسی یا اخلاقی گنجائش موجود نہیں۔
بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں میں سیاسی کشیدگی نے معاشرے میں ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ریاستی اداروں پر تنقید اور ریاست سے نفرت کے درمیان لکیر دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔ فوج کے سیاسی کردار پر تنقید ہر شہری کا حق ہے، مگر فوجی قیادت سے اختلاف اور میدان میں جان دینے والے ایک عام سپاہی سے دشمنی ایک ہی چیز نہیں۔ اسی طرح کسی حکومت سے اختلاف اور ریاست کے نقصان پر خوش ہونا بھی ایک ہی بات نہیں۔ سوشل میڈیا پر پاکستان تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں اور کارکنوں کے ایسے رویے وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں جن میں سیاسی نفرت اس حد تک پہنچی دکھائی دیتی ہے کہ شہادت، حملے یا قومی نقصان کو بھی جماعتی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ایسے رویوں کی مذمت کے بجائے بعض اوقات اعلیٰ قیادت کی جانب سے بھی ایسا لہجہ اختیار کیا جاتا ہے جو اس تقسیم کو مزید گہرا کرتا ہے۔
ایک فوجی جوان یا افسر جب وزیرستان، خیبر یا باجوڑ میں جان دیتا ہے تو وہ کسی جماعت کے لیے نہیں لڑ رہا ہوتا۔ ایک پولیس کانسٹیبل یا افسر جب دہشت گرد کا سامنا کرتا ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اسلام آباد میں کس کی حکومت ہے یا کون سا سیاسی رہنما جیل میں ہے۔ وہ ریاست کی جانب سے کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے گھر والے جس لاش کو وصول کرتے ہیں، اس پر کسی جماعت کا پرچم نہیں بلکہ پاکستان کا پرچم ہوتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے ہماری سیاست میں دوبارہ مرکزی مقام ملنا چاہیے۔
خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کی ایک بہت بڑی قیمت ادا کی ہے۔ اس صوبے نے جنازے دیکھے ہیں، بازاروں کو اجڑتے دیکھا ہے، سکولوں کو تباہ ہوتے دیکھا ہے، مساجد کو نشانہ بنتے دیکھا ہے، فوج اور پولیس اہلکاروں کے تابوت دیکھے ہیں اور ایسے خاندان دیکھے ہیں جن کی کئی نسلیں دہشت گردی کی قیمت ادا کرتی رہی ہیں۔ ایسے لوگوں کو مسلسل سیاسی کشمکش، الزام تراشی اور احتجاجی سیاست سے زیادہ ایک مضبوط اور سنجیدہ حکومت کی ضرورت ہے۔ انہیں ایسی قیادت چاہیے جو اختلاف بھی کرے مگر ریاستی ذمہ داری نہ بھولے، جو وفاق سے سیاسی اختلاف رکھے مگر صوبے کے مفاد میں تعاون کا دروازہ بند نہ کرے، اور جو افغانستان کے معاملے میں جذبات یا سیاسی مصلحت کے بجائے قومی سلامتی کو مقدم رکھے۔
یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ حکومت کرنا محض انتخابی جلسہ چلانے کا نام نہیں۔ حکومت میں آنے کے بعد نعروں کی جگہ فیصلے لیتے ہیں، احتجاج کی جگہ انتظام آتا ہے، الزام کی جگہ جواب دہی آتی ہے اور سیاسی وفاداری سے بڑھ کر شہریوں کی حفاظت اہم ہو جاتی ہے۔ جو جماعت اقتدار میں رہتے ہوئے بھی مستقل اپوزیشن کے انداز میں سیاست کرے، وہ اپنے کارکنوں کو تو متحرک رکھ سکتی ہے، مگر ریاستی اداروں کو مربوط انداز میں نہیں چلا سکتی۔
خیبر پختونخوا کو اس وقت سیاسی شور سے زیادہ ایسی حکمرانی کی ضرورت ہے جس کی موجودگی تھانے، بازار، سکول، ہسپتال اور سرحدی چوکی پر محسوس ہو۔ پولیس کو جدید وسائل، بہتر تربیت، انٹیلی جنس سپورٹ اور مؤثر تحفظ درکار ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کو سیاسی تنازعات سے اوپر رکھنا ہوگا۔ وفاق اور صوبے کو کم از کم سلامتی کے معاملے پر ایک دوسرے کو سیاسی حریف نہیں بلکہ شراکت دار سمجھنا ہوگا۔ دہشت گرد کو یہ پیغام جانا چاہیے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں آپس میں ہزار اختلاف رکھ سکتی ہیں، لیکن ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والے کے مقابلے میں سب ایک صف میں کھڑی ہیں۔
اصل سوال اب یہ نہیں کہ صوبے میں حکومت موجود ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت، حکومت کی طرح عمل کر رہی ہے؟
کیونکہ اقتدار میں بیٹھ کر ہر وقت اپوزیشن کرنا شاید سیاسی طور پر فائدہ مند ہو، لیکن ایک ایسے صوبے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے جو پہلے ہی دہشت گردی، خوف اور خونریزی کا بوجھ اٹھا رہا ہو۔
خیبر پختونخوا کو ایک سیاسی تحریک نہیں، ایک حکومت چاہیے۔ پاکستان تحریک انصاف کو اگر صوبے میں اکثریت ملی ہے تو اسے کروڑوں لوگوں کی قیادت ایسے افراد کے سپرد کرنی چاہیے جو تجربہ، تدبر، سنجیدگی اور انتظامی صلاحیت رکھتے ہوں، کیونکہ صوبے کو سیاسی تماشے سے زیادہ امن، ترقی اور خوش حالی کی ضرورت ہے۔
اور شاید آج اس صوبے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ حکومت موجود ہے، مگر وہ ابھی تک اپوزیشن کے ذہن سے باہر نہیں نکل سکی۔

