“ڈاکٹر فرید احمد پراچہ”

میاں حبیب صاحب پاکستان کے معروف اور سنجیدہ کالم نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے صحافت کے میدان میں قلم آزمائی کر رہے ہیں اور ان کی تحریروں کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان میں دلیل بھی ہے، توازن بھی، اعتدال بھی اور گہرا مشاہدہ بھی۔ وہ کسی موضوع پر محض جذباتی انداز میں اظہارِ خیال کرنے کے بجائے سوچ سمجھ کر، حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اور اپنے طویل صحافتی تجربے کی روشنی میں بات کرتے ہیں۔

ان کے کالموں کا مجموعہ ’’سپیڈ بریکر‘‘ 290 صفحات پر مشتمل ہے، جسے قلم فاؤنڈیشن نے خوبصورت انداز میں شائع کیا ہے۔ کتاب کا عنوان نہایت بامعنی اور برمحل ہے۔ سڑک پر سپیڈ بریکر کا بنیادی مقصد رفتار کو قابو میں رکھنا اور بے احتیاطی سے بچانا ہوتا ہے۔ میاں حبیب کے کالم بھی گویا ہماری قومی زندگی، بالخصوص سیاست کے میدان میں بے لگام دوڑنے والوں کے لیے ایک فکری سپیڈ بریکر کا کام کرتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں، توجہ دلاتے ہیں، احتساب کی طرف متوجہ کرتے ہیں اور قاری کو رک کر سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں۔

میاں حبیب صاحب سے میرا ایک ذاتی تعلق بھی ہے جس کی ایک خاص نسبت اس کتاب کے موضوعات سے جڑ جاتی ہے۔ جب میں رکن قومی اسمبلی تھا تو عاشق رسول عامر چیمہ شہید کا مغربی جرمنی جیل کامعاملہ، میاں حبیب صاحب ہی میرے سامنے لے کر آئے تھے۔ اس معاملے کے بارے میں ابتدائی معلومات بھی انہوں نے ہی مجھے فراہم کی تھیں۔ جسے پہلی مرتبہ میں نے توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے اسمبلی میں اٹھایا تھا اس لیے ان کے صحافتی کردار کو میں محض ایک کالم نگار کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ایسے صاحبِ قلم کے طور پر بھی دیکھتا ہوں جو بعض اہم قومی اور انسانی معاملات کو ذمہ داری کے ساتھ سامنے لانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

’’سپیڈ بریکر‘‘ میں میاں حبیب نے قومی سیاست، ملکی حالات، بین الاقوامی واقعات، کشمیر، فلسطین، عدلیہ، معیشت، ماحولیات، انتخابات اور معاشرتی مسائل سمیت متعدد اہم موضوعات کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ کتاب میں شامل عنوانات ہی ان کے فکری تنوع کا اندازہ کراتے ہیں۔ ’’پاکستان کیسا ہے؟‘‘، ’’قائد کی سالگرہ‘‘، ’’اللہ سے کاروبار‘‘، امریکی انتخابات کے پاکستان پر اثرات، ’’چھبیسویں آئینی ترمیم اور عدالتی ڈھانچہ‘‘، الخدمت فاؤنڈیشن کا غزہ میں بحالی کا منصوبہ، کشمیر پر بھارتی قبضہ اور یومِ استحصالِ کشمیر جیسے موضوعات اس مجموعے میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

اسی طرح فوج اور سپہ سالار کی قائدانہ صلاحیتوں پر ان کا تجزیہ، سینیٹ انتخابات، پانچ اگست اور مسئلہ کشمیر، ماحولیاتی کانفرنس، پاکستان کے بدلتے سیاسی حالات اور ’’تبدیلی کی افواہیں کیوں؟‘‘ جیسے موضوعات بھی ان کے کالموں کی وسعتِ نظر کو ظاہر کرتے ہیں۔ ’’پاکستان پانی پانی ہو گیا‘‘ سیلاب اور بارشوں کے حوالے سے ایک اہم تحریر ہے، جبکہ ’’ایک دن پولیس کے نام‘‘ میں انہوں نے پولیس کے کردار اور اس کے مسائل کو موضوع بنایا ہے۔ ’’زبانی کلامی جنگ بندی‘‘ بھی موجودہ سیاسی و عالمی حالات کے تناظر میں ایک دلچسپ عنوان ہے۔

بنگلہ دیش کے حالات اور حسینہ واجد کے حوالے سے ان کی تحریر، جماعت اسلامی کے سیاسی کردار، مختلف سیاسی تبدیلیوں اور میاں سعید کے ڈیرے پر ہونے والی ایک نشست کے حوالے سے لکھا گیا کالم بھی خاص توجہ کا حامل ہے۔ ’’کامیاب لوگوں کے حساب‘‘ جیسے عنوانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی دلچسپی صرف سیاست اور اقتدار کے ایوانوں تک محدود نہیں بلکہ وہ کامیابی، کردار اور معاشرتی رویوں کو بھی اپنے قلم کا موضوع بناتے ہیں۔

میاں حبیب کے کالموں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ محض واقعات بیان نہیں کرتے بلکہ واقعات کے پس منظر، ان کے محرکات اور ان کے ممکنہ نتائج پر بھی غور کرتے ہیں۔ ان کے ہاں مشاہدہ ہے، تجربہ ہے، حقائق ہیں، تجزیہ ہے اور سب سے بڑھ کر ایک ذمہ دار صحافی کا احساسِ فرض ہے۔ وہ اختلاف کرتے ہیں تو دلیل کے ساتھ، تنقید کرتے ہیں تو اعتدال کے ساتھ، اور کسی معاملے کی طرف توجہ دلاتے ہیں تو قاری کو اپنی رائے قائم کرنے کے لیے فکری مواد بھی فراہم کرتے ہیں۔

’’سپیڈ بریکر‘‘ اس اعتبار سے محض اخباری کالموں کا مجموعہ نہیں بلکہ ہمارے عہد کے سیاسی، سماجی اور قومی حالات کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں گزشتہ چند برسوں کی بہت سی اہم تبدیلیاں اور واقعات محفوظ ہو گئے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس نوع کی تحریریں ہماری قومی تاریخ کے لیے دستاویزی اہمیت بھی اختیار کرتی ہیں، کیونکہ یہ واقعات کو اس وقت کے ایک باشعور اور تجربہ کار صحافی کی نظر سے محفوظ کرتی ہیں۔

میں میاں حبیب صاحب کے اس مجموعہ کلام کی اشاعت پر انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ’’سپیڈ بریکر‘‘ کا عنوان اپنی معنویت کے اعتبار سے نہایت خوب صورت ہے اور کتاب کا مواد بھی اس عنوان کے ساتھ پورا انصاف کرتا ہے۔ قلم فاؤنڈیشن نے بھی اس کتاب کو عمدہ طباعت اور خوب صورت پیش کش کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔

یہ کتاب ان لوگوں کے لیے یقیناً مفید ہے جو پاکستان کی قومی سیاست، بدلتے ہوئے حالات اور ہمارے اجتماعی مسائل کو ایک متوازن، سنجیدہ اور تجربہ کار صحافی کی نظر سے سمجھنا چاہتے ہیں۔ میاں حبیب صاحب نے اپنے قلم کے ذریعے واقعی ایسے مقامات پر سپیڈ بریکر نصب کیے ہیں جہاں قومی زندگی کی گاڑی کبھی کبھی رفتارِ بے احتیاطی سے دوڑنے لگتی ہے.