تہران ( عرب میڈیا، ایرانی میڈیا) امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تہران میں آئل ڈپو کو شدید نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں تیل کے ذخائر میں آگ بھڑک اٹھی اور بہتا ہوا تیل سڑکوں تک پہنچنے سے کئی مقامات پر آگ پھیل گئی۔
ایرانی دارالحکومت میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد تباہ ہونے والے تیل کے ڈپو سے بہنے والا تیل شہر کے سیوریج نظام میں داخل ہوگیا جس کے باعث سڑکوں کے کناروں پر آگ بھڑک اٹھی۔ مقامی سطح پر اس منظر کو ’آگ کی ندی‘ سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں شہر کی ایک سڑک کے کنارے آگ کے شعلے مسلسل بھڑکتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔حکام کے مطابق تیل کے بہاؤ کے سیوریج لائنوں میں داخل ہونے سے بعض علاقوں میں آگ پھیل گئی جس سے شہری انفرااسٹرکچر اور ماحولیات کو مزید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کے اخراج کو فوری طور پر قابو نہ کیا گیا تو آگ مزید علاقوں تک پھیل سکتی ہے اور شہری آبادی کے لیے خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اس سے قبل ایرانی وزارتِ تیل نے تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی حملوں میں تین مختلف مقامات پر واقع ایندھن کے ذخیرہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا، جن میں صوبہ البرز کے صنعتی شہر کرج کا ڈپو بھی شامل ہے۔دوسری جانب تہران کی ریفائنری پر حملے کے بعد ایران نے اسرائیل کی حیفا ریفائنری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ کویت ایئرپورٹ کے فیول ٹینکوں پر بھی ڈرون حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کارروائیوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے جبکہ بحرین میں نیول اڈے پر 21 امریکی اہلکار مارے گئے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق ایک امریکی آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

