پشاور(نمائندہ خصوصی) پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فیصل امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بھائی اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو پنجاب پولیس کی حراست کے دوران گردن کے پچھلے حصے پر بجلی کے جھٹکے دیے گئے تھے۔
فیصل امین گنڈاپور نے سوشل میڈیا پر علی امین گنڈاپور کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ تصاویر شیئر نہیں کرنا چاہتے تھے، تاہم بعض افراد کے مبینہ پروپیگنڈے کے باعث انہیں ایسا کرنا پڑا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ علی امین گنڈاپور کو گردن کے پچھلے حصے میں بجلی کے جھٹکے دیے گئے تھے، جس کی تکلیف وہ کئی برس سے برداشت کر رہے تھے، بعدازاں اس مسئلے کے علاج کے لیے سرجری کی گئی اور گردن کے پچھلے حصے پر 9 ٹانکے آئے۔
دوسری جانب علی امین گنڈاپور نے بھی اپنی گردن پر ٹانکوں کی تصویر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پرانا زخم ہے جو 9 مئی کے بعد حراست کے دوران تشدد سے بنا تھا، تکلیف بڑھنے پر چند روز قبل سرجری کرائی گئی۔
تاہم پنجاب پولیس کی جانب سے علی امین گنڈاپور کو دوران حراست بجلی کے جھٹکے دیے جانے کے دعوے پر تاحال کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا اور اس الزام کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہوئی۔فیصل امین گنڈاپور نے کہا کہ پروپیگنڈا کرنے والوں کے پیاروں کو بھی ایسا کچھ پیش آئے تو انہیں اس تکلیف کا اندازہ ہوگا۔

